.

اسرائیل: نیتن یاہو پر بدعنوانیوں کے الزامات میں فردِ جُرم کے خلاف اور حق میں ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات میں مجوزہ فردِ جُرم پر ان کے حامیوں اور مخالفین نے ہفتے کی شب دارالحکومت تل ابیب اور دوسرے شہروں میں ریلیاں نکالی ہیں۔

تل ابیب میں نیتن یاہو کے حامیوں نے ان کے حق میں ایک ریلی کا اہتمام کیا ۔انھوں نے ہاتھوں میں اسرائیلی پرچم اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’’نیتن یاہو عوام آپ کے ساتھ ہیں‘‘ اور ’’ نیتن یاہو میرا وزیراعظم ‘‘ ۔

ان کے مد مقابل اسرائیلی وزیراعظم کے مخالفین نے ریلی نکالی تھی پولیس اہلکار وں نے ان دونوں ریلیوں کے شرکاء کے درمیان ایک حدِ فاصل قائم کردی تھی اور انھیں ایک دوسرے کے نزدیک نہیں آنے دیا ۔اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر کے مطابق حکومت مخالفین نیتن یاہو کو ’’ کرائم منسٹر ‘‘ قرار دے رہے تھے اور یہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’’ نیتن یا ہو کے جانے کا وقت آگیا‘‘۔

اسرائیلی قانون کے تحت وزیراعظم کے خلاف جب تک الزامات ثابت نہیں ہوجاتے ،اس وقت تک انھیں مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔وہ فرد جرم اور ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں اور ان کے استرداد کے بعد انھیں وزارت عظمیٰ سے سبکدوش کیا جاسکتا ہے۔

اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے گذشتہ جمعرات کو وزیراعظم کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات میں فرد جرم عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد نیتن یاہو نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان الزامات کے باوجود ایک طویل عرصے کے لیے ملک کے وزیراعظم رہنا چاہتے ہیں۔

تل ابیب کے نزدیک واقع رمل میں حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کے کارکنان نے معاسی یاہو جیل کی دیوار پر بڑے جلی حروف میں یہ لکھ دیا ہے:’’ نیتن یاہو اسرائیل شرمندہ ہے‘‘۔اسی جیل میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ بدعنوانی کے جرم میں قید کاٹ چکے ہیں اور سابق صدر موشے کتساف کو ناجائز جنسی تعلقات کے الزامات میں بند کیا گیا تھا۔

مقبوضہ بیت المقدس میں نیتن یاہو کی سرکاری رہائش گاہ سے ملحقہ شاہراہوں پر ایک اور گروپ نے مظاہرہ کیا جس کے پیش نظر وہاں سے ٹریفک کا رُخ دوسری شاہراہوں کی جانب موڑ دیا گیا ۔ وہ اسرائیلی وزیراعظم کے نئے انتخابی اتحاد کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔انھوں نے اس ڈیل کو نسل پرستانہ قرار دے کر ا س کی مذمت کی ہے۔

نیتن یاہو کی نگرانی میں گذشتہ ہفتے جیوش پاور اور دائیں بازو کی دو اور جماعتوں کے درمیان ایک انتخابی اتحاد تشکیل پایا تھا۔اس کے بعد اس متنازع جماعت جیوش پاور پارلیمانی انتخابات میں ایک نشست جیتنے کے لیے درکار ووٹ حاصل کر سکے گی ۔