.

عراق : اسکولوں میں منشیات کا پھیلاؤ ، ملک کی بڑی شخصیات پر ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں مختلف عمر کے افراد میں منشیات کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس کی وجوہات میں بے روزگاری، بدعنوانی اور عراقی سرحدوں پر بعض ملیشیاؤں کا کنٹرول ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ منشیات کے استعمال کا تناسب 46% کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سرگرمی میں مافیا تنظیمیں ملوث ہیں جن کو ریاست میں بڑی شخصیات اور عہدے داران چلا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ لیلی فلیح نے بتایا کہ عراق کے اسکولوں میں منشیات کے داخل ہونے کے بارے میں مصدقہ معلومات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لعنت سیکنڈری مرحلے کے بعض طلبہ میں پھیل چکی ہے۔ لیلی نے واضح کیا کہ بڑے اور وسیع نیٹ ورکس منشیات کی تجارت کے ذمے دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں منشیات کے داخل ہونے کے پیچھے ملک کے تعلیمی نظام کے آگے نہ بڑھنے کا ہاتھ ہے۔ لیلی کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑے نام منشیات کی تجارت کے نیٹ ورکس کے معاون ہیں اور اس کے علاوہ بین الاقوامی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی عراق میں اس کو پھیلانے کے واسطے مصروف عمل ہیں۔

عراق میں مذہبی مرجع آیت اللہ علی سیستانی کے نمائندے نے جمعے کے روز ملک میں تیزی سے پھیلتی منشیات کی لعنت سے خبردار کیا تھا۔ نمائندے کے مطابق متعلقہ سکیورٹی ادارے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں اور سیاسی طبقہ تنازعات کا شکار ہے جس سے صورت حال مزیدہ پیچیدہ ہو گی۔

اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں تعلیمی کمیٹی کے رکن رعد المکصوصی نے عراق کے اسکولوں میں منشیات کے بڑھتے رجحان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کا سبب طلبہ میں آگاہی کی کمی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی کی کمی کے علاوہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر عدم کنٹرول نے طلبہ میں منشیات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مذہبی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے میں آگاہی کے لیے ذمے داری قبول کریں۔