.

قاسم سلیمانی کی امریکا کے ساتھ "معاہدہ 2" کا مطالبہ کرنے والوں پر کڑی نکتہ چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فورس سپاہ قدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے امریکا کے ساتھ "معاہدہ 2" کا مطالبہ کرنے والوں کو دشمن قرار دیتے ہوئے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سلیمانی کے مطابق جو لوگ بھی اس طرح کے سمجھوتے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا مقصد "اسلامی گروپوں کو بے اثر بنانا ہے"۔ تاہم ایرانی کمانڈر نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کون لوگ ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے سابقہ مواقع پر پہلی مرتبہ "معاہدہ 2" کی عبارت کا استعمال کیا۔

جنوبی ایران کے شہر کرمان میں خطاب کے دوران سلیمانی نے واضح کیا کہ "معاہدہ 2" یا "معاہدہ 3" کا خیال سابق امریکی صدر باراک اوباما کے منصوبے میں شامل تھا۔ تاہم اب جوہری معاہدے سے علاحدگی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ جلد از جلد اسی منصوبے اور مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

سلیمانی کے مطابق ایران کے ساتھ دوسرا معاہدہ طے کرنے کے پیچھے امریکا کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ (ایران) کو سبوتاژ کیا جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا تا کہ ایک دوسرے جوہری معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ اس سے قبل 2015 میں ایران اور 5+1 ممالک کے گروپ (سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی پر مشتمل گروپ) نے جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ٹرمپ اس معاہدے کو "ناکام" شمار کرتے ہیں۔ انہوں نے مئی 2018 میں مذکورہ معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے تہران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے 2015 میں نوروز کے تہوار پر خطاب میں کہا تھا کہ "بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ جوہری معاملے کے تصفیے کے بعد داخلی پالیسی کی سمت بھی ایک دوسرا معاہدہ ہونا چاہیے"۔ اس وقت ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے فوری طور پر اس طرح کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اس کا مطلب ہوا کہ اسلامیہ جمہوریہ کو اپنے بنیادی اسلامی اصولوں سے دست بردار ہونا ہو گا"۔

قاسم سلیمانی جس کو امریکا "دہشت گردی کا سپورٹر" قرار دے چکا ہے ، وہ ایران میں سب سے زیادہ نفوذ کا حامل عسکری عہدے دار شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سلیمانی کا سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے قریب ہونا اور ایرانی نظام کے اہم فیصلوں میں اس کا کردار ہے۔ ان فیصلوں میں شام ، عراق اور یمن میں مداخلت جیسے بیرون ملک عسکری آپریشنز شامل ہیں۔