.

شمیمہ بیگم کے شوہر نے "گھر، بیوی اور بچے" کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے داعش کے رکن اور برطانوی طالبہ شمیمہ بیگم کے شوہر یاگو ریڈک کا جنگجووانہ سفر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ شمیمہ بیگم داعش کی قائم کردہ خلافت کی ریاست میں شمولیت کے لیے 2015 میں برطانیہ سے فرار ہو گئی تھی۔ میڈیا میں اسے "داعش کی دلہن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اگرچہ اتوار کے روز ٹیلی وژن پر گفتگو میں ریڈک نے داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنے کا اعتراف کر لیا تاہم ریڈک نے اپنے ملک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے اپنی بیوی اور نومولود بچے کے ساتھ ہالینڈ واپس آنے کی اجازت دی جائے۔

ستائیس سالہ ریڈک اس وقت شمال مشرقی شام میں کردوں کے ایک مرکز میں زیر حراست ہے۔ اسے عدالتی کارروائی کے بعد کئی برسوں کی جیل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ریڈک کو اس بات کا ادراک ہے کہ اگر ہالینڈ کے حکام آمادہ ہو گئے تو آخرکار وہ باہر نکل آئے گا اور اپنے چھوٹے سے گھرانے کے ساتھ "پرامن" زندگی گزارے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ریڈک نے بتایا کہ اس نے داعش سے کوچ کر جانے کی کوشش کی تاہم اسے الرقہ میں جیل میں قید کر دیا گیا۔ بعض داعشی عناصر کی جانب سے اس پر ہالینڈ کے جاسوس ہونے کا الزام لگایا گیا جس کے بعد سے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ 19 سالہ شمیمہ بیگم چند ہفتوں قبل اپنے شوہر کے ساتھ شام کے شہر الباغوز سے نکل آئی تھی۔ شمیمہ اس وقت اپنے ننھے بچے کے ساتھ شام کے مشرق میں ایک کیمپ میں پڑی ہوئی ہے۔ اس نے گزشتہ ہفتے سا ننھے پھول کو جنم دیا تھا۔

شمیمہ بیگم نے اپنے بچے کی سلامتی کے واسطے اپنے ملک واپس لوٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے شمیمہ کی برطانوی شہریت مسنوخ کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

ریڈک کا کہنا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ شمیمہ سے الرقہ شہر میں خواتین کے ایک مرکز میں ملا تھا۔ تاہم ابتدا میں ریڈک کا شادی کا ارادہ نہ تھا کیوں کہ اس وقت شمیمہ کی عمر بہت کم (15 برس) تھی۔