.

'انقرہ دوحہ معاہدے نے ایردوآن کو قطر پرتسلط کا مطلق اختیار دے دیا'

قطر اور ترکی میں فوجی معاہدے پر امریکی میڈیا میں بھی سوال اٹھنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر اور ترکی کے درمیان طے پایا دفاعی تعاون کا معاہدہ عالمی سطح پر مسلسل متنازع ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس پر سوالات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔

امریکا کی ایک نیوز ویب سائیٹ'دا ڈیلی کولر' کی جانب سے شائع کی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر اور دوحہ کے درمیان طے پائے سمجھوتے نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو قطر کی سرزمین پر قبضے کا مطلق اختیار دے دیاہے۔

متوقع امریکی رد عمل

قطر میں ترکی کی فوجی سرگرمیوں‌میں اضافےکو امریکا بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ خطے کے ممالک اور عالمی طاقتیں بھی قطر کو ترکی کی فوجی چھائونی بنانے پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے منتظر ہیں۔ عن قریب امریکی وزارت خارجہ اور سلامتی کونسل بھی اس حوالے سے اپنا موقف واضح‌ کرے گی کہ آیا ترکی ایک ایسے ملک میں اپنی فوجی سرگرمیاں کیسے بڑھا سکتا ہے جہاں امریکا کا مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا فوجی فوجی اڈا موجود ہے۔

101 سال میں پہلی بار

قطر اور ترکی کے درمیان طے پائے سمجھوتے کو 'جمہوریہ ترکی اور قطری مملکت کی اراضی میں ترک فوج کی تعیناتی' کا عنوان دیا گیا۔ اس سمجھوتے پر 28 اپریل 2016ء کو دستخط ہوئے اور 101 سال کے بعد پہلاموقع ہے جب ترکی کی اتنی بڑی فوج خلیج کے کسی ملک میں جمع ہوئی ہے۔

ایردوآن کی مطلق آزادی

دوحہ اور انقرہ کے درمیان طے پائے معاہدے میں ترک صدر رجب طیب یردوآن کو قطر کی سرزمین کو استعمال کرنے کی مطلق آزادی فراہم کی گئی ہے۔ ترکی اس معاہد ے کو اپنے نظریاتی اورسیاسی مفادات کے لیے استعمال کرے گا۔ وہ 'نیٹو' کی طرز پر ایک بڑی فوجی طاقت تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہے جس میں عالمی اتحاد میں شامل دُنیا کی دوسری بڑی فوج کو شامل کیا جائے گا۔ فوجی طاقت کے اعتبار سے امریکا اس وقت پہلے نمبر پر ہے۔

قطرخُود کو ترکی کے لیے تزویراتی اہمیت کاحامل ملک قرار دیتا ہے۔ سویڈن میں قائم Nordic Monitor رصد گاہ کے مطابق ترکی اور قطر کے درمیان فوجی معاہدےکو خلیج میں کسی فوجی کارروائی کے دوران بدنام کیا جاسکتا ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے خطرات

ترکی کے قطرمیں قائم کردہ فوجی اڈے کو خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگار عبداللہ بوزکوٹ نے امریکی ویب سائیٹ کے لیے ایک مضموں میں لکھا کہ جب ترکی اور قطر کے درمیان فوجی معاہدہ مکمل نافذ ہوگا تو اس کے خلیجی خطے کوخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ترک فوج خلیجی خطے میں اپنے مخصوص مفادات کے لیے کسی فوجی مہم جوئی میں شامل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس معاہدے کے بہت سے پہلو پردہ راز میں ہیں۔ یہ معاہدہ ایردوآن کو قطر کی سرزمین کو کسی بھی مہم جوئی کے لیے استعمال کرنے کا مطلق اختیار دیتا ہے۔