.

شام سے سفارتی تعلقات کی بحالی سیاسی عمل میں پیش رفت سے مشروط ہے: الجبیر

روس کی سعودیہ کو ایٹمی توانائی کے حصول میں معاونت کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شام کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور دمشق میں سعودی سفارت خانہ کھولنے کی بات قبل از وقت ہے۔ شام کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کی پہلی شرط شام میں سیاسی عمل میں پیش رفت ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے سعودی وزیرخارجہ نے اپنے روسی ہم منصب سیرگی لاوروف کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ شام کی خود مختاری، وحدت اور سالمیت پر زور دیا ہے۔ شام کے ساتھ سفاتی تعلقات کی بحالی کی باتیں قبل از وقت ہیں۔ شام کی عرب لیگ کی رکنیت کی بحالی میں بھی وقت لگے گا۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے انکشاف کیا کہ کینیڈا نے ریاض کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ نہیں کیا ہے۔

دونوں‌ملکوں کے وزراء خارجہ نے شام، یمن ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر روسی وزیرخارجہ سیرگی لاوروف نے توقع ظاہر کی کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سعودی عرب کو پرامن اور سول مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تیاری میں مدد فراہم کرے گا۔

انہوں‌ نے کہا کہ روس شام میں دستور سازی کے لیے نئی کمیٹی کی تشکیل میں تمام سیاسی قوتوں کی شمولیت کی حمایت کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دستور ساز کمیٹی کی تشکیل موجودہ مرحلے کا اہم ہدف ہے۔

ایک سوال کے جواب میں روسی وزیرخارجہ مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت پرزوردیا اورکہا کہ ماسکو فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کے لیےتیار ہے مگر فریقین اس پر راضی نہیں۔ لاوروف نے روسی عازمین حج کو ہرممکن سہولت دینے پر ریاض کا شکریہ ادا کیا۔