.

شام: فرانسیسی جہادی ژاں مشعل کلین الباغوز پر حملے میں مارا گیا ، بیوی کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی انتہا پسند ژاں مشعل کلین گذشتہ ماہ شام میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد مارٹر گولا لگنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔اس کی بیوی نے شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں داعش کے زیر قبضہ رہ جانے والے آخری گاؤں الباغوز میں فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خاوند کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس حملے میں اس کا جیٹھ فابین بھی مارا گیا تھا۔

ڈورتھی میکوائر نے الباغوز سے انخلا کے بعد داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی جانچ پرتال کے لیے مختص کردہ جگہ پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’ایک ڈرون حملے میں میرا جیٹھ ہلاک ہوگیا تھا اور اس کے بعد مارٹر گولا لگنے سے میرا خاوند بھی مارا گیا تھا‘‘۔داعش کے خلاف جنگ آزما امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے جنگجو اس جگہ الباغوز سے نکالے گئے سیکڑوں افراد کی جامہ تلاشی لے رہے تھے ۔

واضح رہے کہ 41 سالہ فابئین کلین ہی نے نومبر 20015ء میں ایک آڈیو ریکارڈنگ میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں داعش کے حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں کے فرانسیسی دارالحکومت میں بیک وقت ریستورانوں اور بار اور ایک فٹ بال اسٹیڈیم پر مربوط حملوں میں 129 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

داعش کا یہ جنگجو گذشتہ ماہ الباغوز میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا تھا اور 20 فروری کو اسی حملے میں اس کا چھوٹا بھائی 38 سالہ ژاں مشعل کلین زخمی ہوگیا تھا ۔تاہم و ہ دو روز بعد ایک مارٹر گولا لگنے سے چل بسا تھا۔ فابئین کلین کا داعش کے سرکردہ غیرملکی پروپیگنڈے بازوں میں شمار ہوتا تھا لیکن اس کا چھوٹا بھائی ایک نغمہ نگار کے طور پر جانا جاتا تھا اور وہ داعش کی جانب سے جاری کردہ متعدد ویڈیوز میں نغمے گاتے ہوئے نمودار ہوا تھا۔

اس کی بیوی میکوائر نے جب اے ایف پی سے یہ گفتگو کی تو اس نے سیاہ رنگ کا مکمل برقع اوڑھ رکھا تھا ۔اس کے ساتھ اس کے پانچ بچے بھی تھے۔اس کی تین بچے الباغوز پر بمباری میں مارے گئے تھے۔

الباغوز پر قبضے کے لیے اس وقت ایس ڈی ایف اور داعش کے سخت گیر جنگجوؤں کے درمیان فیصلہ کن معرکہ جاری ہے۔داعش کے یہ جنگجو ہتھیار ڈالنے سے انکار کرچکے ہیں۔ تاہم اس گروپ کے ہتھیار ڈالنے والے بعض دوسرے جنگجوؤں ، ان کے خاندانوں اور عام شہریوں کو الباغوز سے نکال لیا گیا ہے۔شام میں یہی گاؤں اب داعش کے کنٹرول میں رہ گیا ہے۔

داعش کا جنگجو ژاں مشعل کلین ۔
داعش کا جنگجو ژاں مشعل کلین ۔