.

عراق میں تین سالہ بچی سے زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ، ملزم گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر موصل میں ایک تین سالہ بچی کی عصمت ریزی کے وحشیانہ واقعے نے پورے ملک کو ہلاک کررکھ دیا۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تین سالہ نور اپنے گھر کے باہر کھیل رہی تھی جب ایک اجنبی شخص اس کے قریب ایا اوراسے مٹھائی دی اور اسے 'باب جدید' محلہ میں ایک ویران مکان پر لے گیا جہاں بچی کے ہاتھ باندھ کر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے وہیں پھینک کر چلا گیا۔

مقامی شہریوں‌نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے مجرم کو کڑی سزا دینے پرزوردیا ہے۔
ایک مقامی نوجوان نے بتایا کہ مجرم کو پکڑ لیا گیا ہے۔ وہ خود بھی شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ ملزم مقامی شہری نہیں بلکہ داعش کے قبضے سے آزاد کرائے موصل سے وہاں اکر آباد ہوا ہے۔
زیادتی کا شکارہونے والی بچی کے دادا جمیل محمد خلیف نے مجرم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے حکومت مجرم کو سرعام پھانسی دے۔

ادھر ایک دکان میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے ملزم کی شناخت کرنے کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔


نینویٰ کے پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ مُجرم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس کی عمر 39 سال ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ مجرم کے خلاف مزید قانونی کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔ پولیس افسر کرنل مازی عبداللہ نے بتایا کہ مجرم کو جرم کے ارتکاب کے صرف ڈیڑھ گھنٹے کے اندر اندر حراست میں لے لیا گیا تھا۔