ایران: مشہور خاتون وکیل نسرین ستودہ کے خلاف عدالتی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی مشہور خاتون وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نسرین ستودہ کو عدالتی کارروائی کے نتیجے میں کئی برس کی جیل کے فیصلے کا سامنا ہے۔ اس بات کا انکشاف ایران میں انسانی حقوق کے حلقوں نے کیا۔ واضح رہے کہ نسرین نے اسلامی جمہوریہ میں لازمی حجاب کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کا دفاع کیا تھا۔

ایران میں انسانی حقوق کے مرکز نے جس کا صدر دفتر نیویارک میں ہے بتایا کہ 55 سالہ نسرین ستودہ کو انقلابی عدالت نے ان کی غیر حاضری میں قصور وار ٹھہرایا ہے۔ نسرین اپنے کام کے سبب تین سال کی جیل گزار چکی ہیں۔

نسرین ایران میں انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے ان وکلاء میں شامل ہیں جنہوں نے ملک میں خواتین پر حجاب پہننے کے جبری قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر حراست میں لی جانے والی خواتین کی نمائندگی کی۔

نسرین اس وقت دارالحکومت تہران کی ایفین جیل میں زیر حراست ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انہیں جیل میں کتنے سال گزارنا ہوں گے۔

ایران میں انسانی حقوق کے مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہادی غائمی نے بدھ کے روز امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ نسرین کے خلاف فیصلہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی نظام کسی بھی پر امن چیلنج کے حوالے سے خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے نسرین ستودہ کے خلاف عدالتی فیصلے کی کوئی خبر نشر نہیں کی۔ اسی طرح اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے بھی اس معاملے پرتبصرے کی درخواست پر کان نہیں دھرا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں