حوثیوں نے اغواء کی گئی خاتون کے بدلے ایک ملین ریال تاوان مانگ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک ماہ قبل راہ چلتے ہوئے صنعاء سے اغواء‌کی گئی ایک خاتون ایمان البشیری حوثیوں کی قائم کردہ ایک جیل میں پابند سلاسل ہے اور اس کی رہائی کے بدلے میں حوثیوں کی طرف سے ایک ملین یمنی ریال تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایمان البشیری کو ایک ماہ قبل نامعلوم افراد نے اغواء‌ کرلیا تھا۔ اس حوالے سے حوثی ملیشیا سے رابطہ کیا گیا تو اس نے ایمان کے کسی جیل میں ہونے کی تردید کی تھی۔

مغویہ کے اہل خانہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایمان شمال مغربی صنعاء میں مذبح کے ایک حراستی مرکز میں ایک ماہ سے پابند سلاسل ہے اور حوثی ملیشیانے اسے غیرانسانی اور وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےحوثی ملیشیا کی طرف سے ایمان البشیری کے معاملے بلیک میلنگ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور اس کی رہائی کے بلے ایک ملین یمنی ریال کی رقم بہ طور تاوان مانگی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایمانالبشیری کو 4 فروری کو دارالحکومت صنعاء میں بیت معیاد میں شاہراہ 16 سے ایک حوثی لیڈر کے ساتھ تلخ کلامی کے اغواء کرلیا گیا تھا۔ ایمان نے حوثی سپر وائزر پر امدادی سامان کے ساتھ کھلواڑکا الزام عاید کای جس کی پاداش میں اسے اغواء پابند سلاسل کردیا گیا اوراب اس کی رہائی کے بدلے میں ایک ملین ریال کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں