ایران سے تیل کی درآمد روکنے کے لیے 8 ممالک سے بات چیت جاری ہے: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ نومبر 2018 میں واشنگٹن کی جانب سے استثناء حاصل کرنے والے آٹھ ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے تا کہ یہ ممالک ایران سے تیل کی خرید کو مکمل طور پر روک دیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق بھارت یہ چاہتا ہے کہ پابندیوں سے استثناء میں کسی بھی توسیع کی صورت میں وہ یومیہ 3 لاکھ بیرل کے قریب ایرانی تیل کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھے۔

امریکا نے ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی خواہش کے سبب گزشتہ برس نومبر میں ایک بار پھر تہران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس سے قبل مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔ یہ معاہدہ جولائی 2015 میں طے پایا تھا۔

اگرچہ امریکا نے ایران کے سب سے بڑے خریداروں چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ترکی، اٹلی اور یونان کو یہ استثناء فراہم کیا تھا کہ وہ تہران سے محدود مقدار میں تیل کی درآمد جاری رکھ سکتے ہیں --- تاہم واشنگٹن کی جانب سے ان ممالک کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ آخرکار ایرانی تیل کی درآمدات مکمل طور سے روک دیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ ممالک کو حاصل موجودہ استثنا چار مئی کو اختتام پذیر ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں