عراق میں 'داعش' سے تعلق کے شبے میں‌ بچوں کو تشدد کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق میں شدت پسند گروہ 'داعش' کے خلاف جنگ کے دوران جہاں ایک طرف داعش بچوں کو جنگ کا ایندھن بنا رہی ہے تو دوسری طرف عراق کے سیکیورٹی ادارے بھی بچوں پر داعش سے تعلق کے شبے میں ان پر وحشیانہ تشدد کے مرتکب ہو رہےہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراقی حکام 'داعش' سے تعلق کے شبے میں گرفتار بچوں پر بھی مقدمہ چلائیں‌ گے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ عراق میں بچوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات میں کئی آئینی سقم موجود ہیں اور مشکوک نوعیت کے مقدمات میں بچوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کا خدشہ ہے۔ بچوں کے خلاف مقدمات دوران حراست زبردستی لیے گئے ان کے اعترافی بیانات کی بنیاد پر چلائے جائیں گے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عراقی حکام بچوں کے خلاف مقدمات چلانے میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے۔

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے داعش سے تعلق کے شبے میں موجودہ اور سابقہ گرفتار 29 بچوں، ان کے اقارب، عدالتی ذرائع اور جیلوں کے محافظوں سے معلومات اکھٹی کی ہیں۔

دسمبر 2017ء‌ میں عراق نے داعش کو شکست دینے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے بیشتر علاقوں سے داعش کونکال باہر کیا تھا۔ داعش کے خلاف جاری رہنے والے آپریشن میں بڑی تعداد میں‌ خواتین اور بچوں کو بھی حراست میں لیاگیا تھا اور ان کے خلاف عراق کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں عراق کی شہریت رکھنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ غیرملکی بچےبھی شامل ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ عراق کی وفاقی حکومت اور صوبہ کردستان کے سیکیورٹی اداروں کی تحوی میں بچوں سے لیے گئے بیانات کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمات چلانا مشکوک ہے۔ زیادہ تر بچوں کو دوران حراست تشدد اور جسمانی اذیتوں سے گذارا گیا اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے گئے۔یہی وجہ ہے کہ عراقی حکام کی طرف سے بچوں کے ٹرائل پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بچوں کے خلاف مقدمات کو غیر شفاف قرار دیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق گروپ نے بچوں کے بیانات لیے س میں کا کہنا ہے کہ بچوں کو وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں حراستی مراکز میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔ انہیں اپنے اقارب اور وکلاء سے ملنے سے روک دیا گیا اور انہیں تشدد کے ذریعے داعش سے تعلق کا اعتراف کرنے پر مجبور کیاگیا حالانکہ ان کا داعش کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔

کرد سیکیورٹی فورسز نے 14 سالہ ایک بچے کو گرفتار کیا جس نے بتایا کہ اسے دوران حراست پلاسٹک کے پائپوں سے مارا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ میں اعتراف کروں کہ داعش کے ساتھ میرا تعلق ہے۔ وحشیانہ تشدد کے باعث میں نے ان کی بات مان لی۔

عراقی جیلوں میں‌ قید بچوں‌ نے انسانی حقوق گروپ کو بتایا کہ انہوں نے کبھی داعش کے کہنے پر بندوق نہیں اٹھائی اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی عسکری تربیت دی گئی ہے۔

دوسری جانب عراق کی وقافی عدالت نے متعدد بچوں کو داعش سے تعلق کے الزام میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ بچوں کو بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ رکھاجاتا ہے جو بہ ذات خود بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔

ایک ستر سالہ لڑکے نے بتایا کہ وہ 9 ماہ تک حراستی مرکز میں رہا۔ عراقی تفتیش کار روزانہ اسے تشدد کانشانہ بناتے۔ رہائی کے بعد یہ بچے اپنے گھروں کو نہیں گئے۔ انہیں ڈر ہے کہ عراقی حکام انہیں دوبارہ حراست میں لے لیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سال 2018ء کے آخر میں عراق کی وفاقی حکومت اور صوبہ کردستان میں 1500 مشتبہ بچوں کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ ان میں 185 غیر ملکی بچے شامل ہیں۔ ان پر دہشت گردی اور داعش سے تعلق کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں