.

ایرانی’’موت کمیٹی‘‘ کے قدامت پسند عالم دین سپریم کورٹ کے سربراہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قدامت پسند عالم دین اور ہارے ہوئے صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی کو ایرانی نظام عدل کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

مقبرہ امام رضا کے متولی ابراہیم رئیسی سپریم لیڈر خامنہ ای کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور اس سے قبل 2017ء کے صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کے مقابلے میں صدارتی امیدوار تھے۔

ایرانی رہنما کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر انھوں نے رئیسی کو ایرانی نظام عدل کا سربراہ اس لئے مقرر کیا ہے کہ وہ عدلیہ کو نئے چیلنجز اور ضروریات کے مطابق ڈھال سکیں۔

بیان کے مطابق میں آپ کا انتخاب اس اہم کام کے لئے کیا ہے کیونکہ آپ عدلیہ میں مختلف شعبوں کے اندر خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور وہاں پائی جانے والی اونچ نیچ سے واقف ہیں۔

خامنہ ای نے رئیسی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے نئے عہدے کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد عوام اور انقلاب کا بازو بنیں اور کرپشن کے خاتمے کے لئے کام کریں۔

ابراہیم رئیسی ایران کی قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ کے آزمودہ رکن ہیں اور اس سے پہلے وہ اٹارنی جنرل، ایرانی نشریاتی ادارے IRIB کے سپروائزر اور علماء کی خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر رہ چکے ہیں۔

رئیسی کو حجۃ الاسلام کا خطاب دیا گیا ہے جو کہ شیعہ علماء کے لئے آیت اللہ کے بعد سب سے بڑا خطاب ہے۔

رئیسی کو 1980-1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران انقلابی عدالت میں نائب پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حزب اختلاف کے ارکان کے مطابق رئیسی نے اپنی مدت ملازمت کے دوران سیاسی مخالفین کو قانونی چارہ جوئی کے بغیر سزائے موت کی سزا دی تھی۔

رئیسی کو خامنہ ای نے 2016 میں ایران کے مزار امام رضا کا متولی مقرر کیا اور اس مزار کی تنظیم آستان قدس رضوی کے انتظامی امور بھی ان کے حوالے کئے۔ اس تنظیم نے ٹیکنالوجی سمیت بینکاری، تعمیرات اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔