.

روحانی اور پاسداران انقلاب کے درمیان سیاسی سے زیادہ اقتصادی کشمکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک طرف حکومت اور صدرحسن روحانی سیاسی میدان میں ملک کی ڈوبتی معیشت کو سہارادینے کے لیے سرگرم ہیں تو دوسری طرف پاسداران انقلاب ریاست کے ان اداروں پر اپنی گرفت مضبوط بنائے ہوئے ہیں جو ملک میں معیشت کی مضبوطی کے اہم مراکز تصور کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر روحانی اور پاسداران انقلاب کے درمیان جاری محاذ آرائی میں سیاسی سے زیادہ اقتصادی اور معاشی کشمکش ہے۔

حال ہی میں صدر حسن روحانی نے شمالی ایران کے لاھیجان شہر میں‌ایک جلسہ عام سے خطاب میں ملک کی معاشی زبوں حالی کا رونا رویا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت اقتصادی اور نفسیاتی بحران سے گذررہا ہے۔ وہ معیشت کی کشتی کو کنارے لگانے کےلیے سپریم لیڈر کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے دیگر معاشی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ اشیائے صرف کی اسمگلنگ ہے اور اس دھندے میں پاسداران انقلاب کا ہاتھ سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ہم نے اشیائےکی اسمگلنگ کی روک تھام کی ذمہ داری پاسداران انقلاب کو سونپی ہے مگر پاسداران انقلاب اسمگلنگ کی 10 میں سے صرف ایک کوشش ناکام بنا پائی ہے۔ لگتا ہے کہ اسمگلنگ کا جن بوتل سے باہر نکل چکا ہے اور اسمگلنگ کی روک تھام ایک مشکل کام بن چکا ہے۔

ایرانی صدر کے اس بیان کو ایک دوسرے معنی میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اشارۃ نام لیے بغیراسمگلنگ میں پاسداران انقلاب کے ملوث ہونے یا اس میں سہولت کاری کا الزام عاید کیا ہے۔

اس وقت صدر حسن روحانی اور پاسدارن انقلاب کے درمیان محاذ آرائی سیاسی سے زیادہ اقتصادی شکل اختیار کرچکی ہے۔ پاسداران انقلاب ایک ایسا اقتصادی ادارہ بن چکا ہے جو حکومت کے ماتحت نہیں۔ پاسداران ایک ایک متوازی حکومت چلا رہا ہے جس کی نگرانی میں 5000 کمپنیاں کام کررہی ہیں۔

ایرانی حکومتیں گذشتہ کئی برسوں سے پاسداران انقلاب کے اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا عندیہ دے چکی ہیں۔ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے تو 'اسمگلر بھائی' کی اصطلح استعمال کی تھی۔ ان کا اشارہ بھی پاسداران انقلاب کی طرف تھا۔
روحانی حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کی ذمہ داری پاسداران انقلاب کو سونپ کر کورٹ پاسداران انقلاب کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ یہ ذمہ داری پہلے بھی پاسداران کو سونپی جا چکی ہے۔

صدر حسن روحانی کا مزید کہنا ہے کہ بعض لوگ ایران سے عراق کے لیے اسمگلنگ کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا ایرانی درآمدات کے بدلے میں ڈالرکہاں سے آئے ہیں۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سرحد پر دینار فروخت کرتے ہیں۔ ہمیں ڈالر نہیں ملتے مگر ہم جانتے ہیں کہ اسمگلر ڈالر وصول کرتےہیں۔