ایران پر پابندیوں نے حزب اللہ کو بھی مالی طور پر کمزور کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے جمعے کی شام اس بات کا اعتراف کر لیا کہ گزشتہ برس نومبر میں امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا بوجھ لبنان کی اس ایران نواز شیعہ ملیشیا پر بھی پڑا ہے۔

نصر اللہ کے مطابق (IRSO) Islamic Resistance Support Organization کی جانب سے عطیات جمع کرنے کی سرگرمیوں کو فعال کرنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ حزب اللہ کو ایک بار پھر سے ہمدردی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں نصرت کرنے والے مال کے ذریعے جہاد سر انجام دیں۔

واضح رہے کہ IRSO ایک "فنڈ" ہے جو حزب اللہ کی سرگرمیوں کی فنڈنگ کرتا ہے لبنان میں پیش کی جانے والی خدمات کی قیمت ادا کرتا ہے۔ حزب اللہ کے "المنار" ٹی وی چینل اور ریڈیو پر مذکورہ فنڈ کی معاونت سے متعلق اشتہارات نشر ہوتے ہیں۔

واشنگٹن کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدہ ہونے اور تہران کے خلاف پابندیوں کا پیکج جاری کرنے کے بعد سے حزب اللہ نے اپنی توجہ بنیادی طور پر مالیاتی انتظامیہ کے ڈھانچے کو از سر نو تشکیل دینے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

حسن نصر اللہ نے گزشتہ روز یہ باور کرایا کہ "صبر وتحمّل، انتظامی بہتری اور ترجیحات کو منظم کرنے کے ذریعے ہم پابندیوں کا مقابلہ کریں گے اور ہم اس جنگ کو عبور کر سکتے ہیں"۔

باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ حزب اللہ نے گزشتہ نومبر میں تہران پر اقتصادی پابندیوں کے دوسرے پیکج کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی اندرونی کفایت شعاری کی راہ اپنا لی تھی۔ واضح رہے کہ ایرانی نظام تیل کی آمدن سے سالانہ 70 کروڑ ڈالر حزب اللہ ملیشیا پر خرچ کرتا تھا۔ تاہم امریکا کی جانب سے ایران کے تیل کے سیکٹر کو پابندیوں کا نشانہ بنانے کے نتیجے میں اب یہ شاہ خرچی ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔

حزب اللہ کے کفایت شعاری کے اقدامات میں ملیشیا کی نیم عسکری تنظیم "المقاومہ بریگیڈز" کے ارکان کی تنخواہوں میں کمی کر دی گئی ہے۔ یہ تنظیم سنیوں، مسیحیوں اور دروز پر مشتمل ہے۔

تنظیم کے کنٹریکٹ پر ارکان 400 ڈالر کے قریب اور کل وقتی ارکان 600 ڈالر کے قریب تنخواہ وصول کر رہے تھے تاہم نئے اقدامات کے تحت یہ تنخواہیں آدھی کر دی گئی ہیں۔

تقریبا 36 برس قبل حزب اللہ کی تاسیس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب (المقاومہ بریگیڈز کے ارکان کے علاوہ) ملیشیا کے عناصر کی تنخواہوں میں 30 فی صد کمی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ریزرو جنگجوؤں کی تنخواہوں میں 50 فی صد کمی کر دی گئی ہے جو ماہانہ اوسطا 800 ڈالر تھی۔

کفایت شعاری کے اقدامات نے حزب اللہ کے زیر انتظام میڈیا اداروں کو بھی لپیٹ میں لیا ہے۔ ملیشیا کے براہ راست زیر انتظام ٹی وی چینل "المنار" اور "النور" ریڈیو کے ملازمین کی تنخواہوں کو نصف کر دیا گیا ہے۔

ملیشیا کے طبی، تعلیمی اور سماجی اداروں میں بھی اسی طرح کی صورت حال ہے جس کے سبب بعض ملازمین مستعفی ہو گئے۔ امریکی پابندیوں کے باعث ان اداروں کے بینک اکاؤنٹس ایک سال سے بند پڑے ہیں۔

حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ان کے اہل خانہ نے بھی اجرتوں کی کمی پر شکوے کی آوازیں بلند کرنا شروع کر دی ہیں۔ بالخصوص شادی شدہ جنجگوؤں نے جن کی تنخواہ عام طور سے 600 سے 1200 ڈالر ماہانہ ہوتی ہے جب کہ غیر شادہ شدہ جنگجوؤں کو ماہانہ صرف 200 ڈالر مل رہے ہیں۔

باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا کہ شام میں جنگ کے دوران حزب اللہ کے تقریبا 2000 ارکان مارے جا چکے ہیں۔

ایرانی فنڈنگ کی زر تلافی کے لیے حزب اللہ نے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے تا کہ اپنی ضروریات کو پورا کر سکے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ نے لبنانی حکومت میں وزارت صحت کے قلم دان کا مطالبہ کیا جو سالانہ تقریبا 33.8 کروڑ ڈالر کے ساتھ چوتھے بڑے بجٹ کی حامل ہے۔ اس سے قبل حکومت میں اس کی نمائندگی معمولی بجٹ کی حامل عام وزارتوں تک محدود رہتی تھی۔

ذرائع کے نزدیک حزب اللہ شام کی جنگ میں زخمی ہونے والے اپنے (3000 کے قریب) ارکان کے علاج کی مد میں وزارت صحت کے بجٹ پر ہاتھ صاف کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں