ایران کا حیران کن طور پر بشار حکومت سے "قرضوں کی ادائیگی "کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے بشار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دمشق پر واجب الادا قرضوں کو واپس کر دے۔ یہ مطالبہ ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ حشمت اللہ فلاحت پیشہ کی زبانی سامنے آیا ہے۔

ایران 2011 کے بعد سے شامی حکومت کی عسکری اور مالی امداد کی مد میں 20 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ اسی طرح دمشق کو سالانہ ایک ارب ڈالر قیمت کی Credit facilities پیش کی گئیں تا کہ تہران شامی حکومت اور خطے میں اپنے مفادات کو تحفط فراہم کر سکے۔

اس کے مقابل بشار حکومت نے مذکورہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے تہران کے ساتھ درجنوں اقتصادی معاہدے کیے۔ مثلا توانائی کے شعبے میں ایران شام کے وسطی شہر حمص کے نزدیک سب سے بڑی آئل ریفائنری قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح ایران نے شام کے ساحل پر بندرگاہوں اور تیل کے ڈپو بنانے کے واسطے 5000 ہیکٹر میں سرمایہ کاری کا پرمٹ حاصل کیا۔ علاوہ ازیں شامی حکومت نے حمص کے دیہی علاقے میں فاسفیٹ کی کانوں میں سرمایہ کاری کا حق دے دیا۔

ایران نے دمشق، حلب، حمص، دیر الزور اور بانیاس میں پاور اسٹیشنوں کی بحالی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

اسی طرح تہران شام میں تیسرے موبائل آپریٹر کی مد میں سرمایہ کاری کے علاوہ بڑے رقبے پر زرعی سرمایہ کاری کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔

جائیداد کے میدان میں سرمایہ کاری شام میں ایران کی اہم ترین اور منافع بخش ترین سرمایہ کاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں