حوثی ملیشیا مخالف قبائلی قیادت کی جائیدادیں ضبط کرنے کے واسطے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں قبائلی ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے بعض قبائلی عمائدین اور قیادت کے اجتماعات کا انعقاد شروع کر دیا ہے۔ یہ اجتماعات "مجالس دانشوران یمن" کے نام سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا کی قیادت نے ان قبائلی عمائدین اور شیوخ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کے مخالف موقف رکھنے والے قبائلی شیوخ اور عمائدین کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کریں خواہ وہ یمن کے اندر ہوں یا بیرون ملک موجود ہوں۔ مطلوبہ معلومات میں ان شخصیات کے نام، مصروفیات، ذرائع آمدن اور جائیداد شامل ہے تا کہ حوثی ملیشیا ان کے مال اور اراضی کو ضبط کر سکے۔

قبائلی ذرائع کے مطابق حوثیوں کے ان اقدامات کا مقصد حجہ میں قبائل کی جانب سے بغاوت کا مقابلہ کرنا اور حالیہ طور پر جاری جھڑپوں کا سلسلہ روکنا ہے۔

ایسا نظر آرہا ہے کہ حوثیوں نے اب قبائل کے عمائدین اور قائدین کو طاقت کے ذریعے اور ان کی جائیداد اور املاک کو قبضے میں لینے کی دھمکی کے ذریعے جھکانے کی پالیسی کا سہارا لیا ہے۔

یہ پیش رفت حجور کے قبائل کی جانب سے بغاوت اور حجہ صوبے کے ضلع کشر میں جاری جھڑپوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ حوثیوں کو اس بغاوت کے دیگر علاقوں تک منتقل ہو جانے کا اندیشہ ہے۔

حوثیوں نے رواں سال جنوری سے ایک دستاویز پر عمل درامد کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں جس کو "قبائلی تکریم" کا نام دیا گیا ہے۔ اس دستاویز کو 2015 میں یمنی حکومت کا تختہ الٹنے جانے کے بعد سے فروغ دیا جا رہا ہے اور اب حوثی ملیشیا اپنے مخالف قبائل کو لگام دینے کے واسطے اس دستاویز کے اطلاق کے واسطے کوشاں ہے۔

دستاویز میں ایسے کسی بھی قبیلے یا شخص کا خون ، گھر اور آبرو مباح قرار دی گئی ہے جو آئینی حکومت کی معاونت کر رہا ہو۔

حوثی باغی اس سے قبل پیپلز جنرل کانگریس پارٹی اور یمن کی آئینی حکومت کی دیگر قیادت کی املاک، مالی رقوم اور جائیداد کو ضبط کرنے کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں