شام کے حراستی مرکز میں شمیمہ بیگم کا بچہ نمونیے سے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے ایک حراستی مرکز میں موجود شمیمہ بیگم کا تین ہفتے کا بچہ انتقال کر گیا ہے۔ برطانیہ نے شمیمہ بیگم کی برطانوی شہریت چند روز قبل منسوخ کر دی تھی جس پر اب حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

چار برس قبل برطانیہ سے فرار ہو کر شام میں دہشت گرد گروہ ’اسلامک اسٹيٹ‘ کی رکن بننے والی شميمہ بيگم کے نومولود بچے کا شام ميں انتقال ہو گيا ہے۔ سيريئن ڈيموکريٹک فورسز نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔ انيس سالہ شمیمہ بیگم نے چند روز قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ واپس برطانيہ جا کر اپنے بچے کی پرورش کرنا چاہتی تھيں۔ تاہم بدھ چھ مارچ کو برطانوی حکومت نے ان کی شہريت منسوخ کر دی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اطلاع ہے کہ ان کا بيٹا نمونيا کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ ’داعش کی دلہن‘ کے نام سے مشہور شميمہ بيگم کے ہاں يہ بيٹا گزشتہ ماہ ہی پيدا ہوا تھا۔ اس سے قبل بھی ان کے دو بچے بيماری و خوراک کی عدم دستيابی کے سبب ہلاک ہو چکے ہيں۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے ترجمان نے کہا تھا کہ شمیمہ بیگم کی برطانوی شہریت ’ناقابل تردید ثبوت‘ اور سلامتی کی وجوہات کی بنا پر منسوخ کی گئی۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ بھر میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ دہشت گرد گروہ داعش کا حصہ بننے والے یورپی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کیا کیا جائے۔ شمیمہ بیگم کی برطانوی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد ان کے والد احمد علی کا کہنا تھا کہ شمیمہ کے پاس دوہری شہریت نہیں ہے اور وہ صرف برطانوی شہری ہیں۔

شمیمہ بیگم لندن کے بیتھنل گرین علاقے کے ایک اسکول کی ایک ذہین طالبہ تھی۔ تاہم، وہ فروری 2015 میں اپنی دو دیگر دوستوں کے ساتھ شام چلی گئی اور وہاں داعش کے کارکن ایک ڈچ شہری یاگو ریڈییک سے شادی کر لی۔ تین ہفتے قبل شمیمہ بیگم نے شام کے ایک کیمپ میں ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ شمیمہ کا 27 سالہ شوہر بھی کُرد فورسز کی حراست میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں