اپریل کے اجلاس سے قبل 'اوپیک پلس' معاہدہ تبدیل نہیں کریں گے: الفالح

تیل کی عالمی منڈی میں طلب میں 15 لاکھ بیرل یومیہ اضافے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر خالد الفالح نے کہا ہے کہ رواں سال تیل کی سب سے زیادہ طلب میں چین اور امریکا سر فہرست رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے اجلاس سے قبل اوپیک کے رکن ممالک تیل کی پیداوار یا کمی بیشی کے حوالے سے کوئی نیا پلان جاری نہیں کریں گے بلکہ'اوپیک پلس' معاہدے پرعمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں خبر رساں ادارے'رائیٹرز' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال عالمی منڈی میں تیل کی طلب میں یومیہ 15 لاکھ بیرل اضافہ متوقع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ اگرآپ وینز ویلا کی طرف دیکھیں گے تو آپ پریشان ہوں گے مگر جب آپ امریکا پر نگاہ دوڑائیں تو آپ یہ کہنے پرمجبور ہوجائیں گے ک دنیا کو تیل اشد ضرورت ہے۔ آپ تیل کی عالمی منڈی میں رسد اور طلب کو دیکھیں گے تو بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ تیل کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ 2019ء کے دوران تیل کی طلب میں طاقت ور اضافہ ہوگا۔

خیال رہےکہ وینز ویلا سیاسی اور اقتصادی بحران کا سامنا کررہا ہے۔ اس کی تیل کی درآمدات میں 40 فی صد کمی آئی ہے۔ امریکا نے وینز ویلا پر تیل کی درآمدات پر 28 جنوری کو پابندی عاید کی تھی جس کے بعد وینز ویلا میں تیل کی درآمدات میں 9 لاکھ 20 ہزار بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب امریکا نے تیل کی طلب میں یومیہ 12 ملین بیرل کی نفسیاتی حد عبور کردی ہے۔ یہ فروری کا ریکارڈ ہے جب کہ رواں‌ماہ مارچ میں امریکا میں تیل کی طلب میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ رواں سال تیل کی طلب 14 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ چین تیل کی کھپت میں ہرماہ ایک نیا ریکارڈ بنا رہا ہے۔ سال 2019ء کے دوران چین میں تیل کی طلب 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپریل تک سعودی عرب تیل کی یومیہ 9 اعشاریہ 8 ملین بیرل تیل ماہانہ پیدا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں