ایرانی صدر روحانی آج عراق کا دورہ کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر حسن روحانی آج پیر کے روز عراق کا دورہ کر رہے ہیں جو 2013 میں صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا عراق کا پہلا دورہ ہے۔ ایرانی صدر کا تین روزہ دورہ بغداد کے ذریعے امریکی اقتصادی پابندیوں کے اثرات سے فرار کی کوشش نظر آ رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اتوار کو عراقی دارالحکومت بغداد پہنچ چکے ہیں۔

روحانی پیر کے روز اپنے عراقی ہم منصب برہم صالح، وزیراعظم عادل عبدالمہدی اور شیعہ عراقی مذہبی مرجع علی سیستانی سے ملاقاتیں کریں گے۔

واضح رہے کہ سیستانی عراق میں ایرانی مداخلت کو ہمیشہ سے مسترد کرتے رہے ہیں اور وہ ولایت فقیہ کے تصور کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے 2008 میں عراق کے دورے پر آنے والے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح دو سال قبل سیستانی نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نمائندے سے ملاقات کو بھی مسترد کر دیا۔

سیستانی کے اس موقف کے سبب ایران میں سخت گیر ٹولہ روحانی کی سیستانی سے ملاقات کے خلاف رہا ہے۔

روحانی چاہتے ہیں کہ اس وقت عراق کو ایران کی معیشت کے لیے بطور آکسیجن کام میں لایا جائے۔ اس سے قبل ایرانی عہدے داران کی جانب سے یہ امکان ظاہر کیا جا چکا ہے کہ عراقی کمپنیاں ایرانی بینکوں میں کھاتے کھول کر عراقی دینا میں لین دین کریں۔ یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ روحانی اپنے دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان ویزے کی شرط کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں گے اور اس شرط کا تاجروں اور کاروباری شخصیات پر پہلے اطلاق ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں