حوثی ملیشیا نے شادی کی رات دلہن اور اس کےوالد کو اغواء‌کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا نے جنوبی گورنری ذمار سے شادی کے روز دلہن اور اس کے والد کو اغواء کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی ملیشیا کے جنگجوئوں نے نجویٰ الموید کی شادی کے موقع پر اس کے والد کے گھر پر چھاپہ مارا اور اس کے والد عبد اللہ محمد الموید سمیت اسے اغواء کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ نجویٰ نے ایک ایسے خاندان کے شخص سے شادی کی ہے جو غیر ہاشمی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جب کہ نجویٰ کا تعلق ہاشمی قبیلے سے ہے۔ ہاشمی قبیلے کے افراد کو اس قبیلے سے باہردوسری برادریوں میں شادی کی اجازت نہیں دی جاتی۔

لڑکی کے کے ایک قریبی عزیز نے بتایا کہ وہ نجویٰ کو ایک دوسرے قبیلے کے شخص کے ساتھ بیاہنا چاہتے تھے مگر حوثیوں کے سیکیورٹی سپروائزر زید الموید نے ان کےنجی معاملات میں مداخلت کی کی کوشش کی۔ ہم نے حوثی ملیشیا کا دبائو مسترد کردیا جس پر حوثیوں نے لڑکی اور اس کے والد کو اغواء کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نجویٰ نے پہلے بھی شادی کی تھی۔ اس کا سابقہ شوہر ہاشمی قبیلے سے تھا۔ وہ حوثیوں کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا۔ اس پر حوثی ملیشیا نے لڑکی کی غیر ہاشمی قبیلے میں شادی سے روک دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں