داعش کا خطرہ بدستور موجود، شام اور عراق سے فوج نہیں نکالیں گے:بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے کہا ہے کہ شدت پسند گروپ 'داعش' عالمی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے خطرہ ہے۔ اس لیے امریکا شام اور عراق سے فوج مکمل طورپر واپس نہیں‌ بلائے گا۔

جون بولٹن نے امریکی ٹی وی چینل'اے بی سی' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شام میں امریکی فوج کے ساتھ فرانسیسی فوج کا اشتراک خوش آئند ہے۔ انہوں نے فرانس اور برطانیہ کے اپنے ہم منصبوں سے بھی بات کی اور کہا کہ شام میں 'داعش' کے خلاف اتحاد میں تینوں ملکوں کی شراکت مثبت پیش رفت ہے۔

شام میں کتنی امریکی فوج موجود رہے گی؟ اس حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وائیٹ ہائوس کے حکام کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی اور تعداد کے حوالے سے مسلح افواج کی قیادت صلاح مشورہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں 'داعش' کے خطرے کے خاتمے کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کےسربراہ جنرل جوزف فوٹیل کے بیانات میں کوئی اختلاف نہیں۔ صدر ٹرمپ نے درست کہا کہ شام میں داعش کی خلافت 100 فی صدختم کردی گئی ہے مگر جنرل فوٹیل کا بیان بھی درست ہے کہ داعش کا مکمل طورپر خطرہ ختم نہیں ہوا ہے۔

جون بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ زمین پر داعش کی خلافت کےخاتمے کو تنظیم کے خاتمے کے معنی میں نہیں لیاجاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں داعش کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے ساتھ شام میں بھی امریکی فوجی مبصرین موجود رہیں گے تاکہ 'داعش' کو دوبارہ منظم ہونے سے روکا جاسکے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوج واپس بلانے کا اچانک اعلان کیا تھا۔ شام میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 2000 ہے۔ امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ ختم ہوچکی ہے تاہم امریکی فوج صدر کے اس بیانیے سے اتفاق نہیں کرتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں