دو زیرِحراست فلسطینیوں پر تشدد کے جرم میں تین اسرائیلی فوجیوں کو قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے تین صہیونی فوجیوں کو زیر حراست دو فلسطینیوں پر تشدد میں ملوث ہونے کے جرم میں ساڑھے چھے ماہ تک قید کی سزا سنائی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان فوجیوں نے دو فلسطینی قیدیوں پر تشدد کا اعتراف کیا تھا اور انھیں پلی بارگین کے تحت کم سزا سنائی گئی ہے۔ملٹری عدالت نے ان تینوں فوجیوں کو ساڑھے چھے ماہ تک قید کا حکم دیا ہے ،ان کا تنزل کردیا ہے اور پرائیویٹ بنا دیا ہے۔

ان فوجیوں نے 13 دسمبر کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی کے حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دو فلسطینیوں کو گرفتار کیا تھا۔ پھر انھیں حراست کے دوران میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور انھیں زخمی کردیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے فوجیوں پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں گذشتہ جمعرات کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے شمال میں واقع کوبر میں ایک فلسطینی عاصم برغوثی کا مکان مسمار کردیا تھا۔

برغوثی پر 13 دسمبر کو مغربی کنارے میں رام اللہ کے نزدیک واقع یہودی آباد کاروں کی ایک بستی گیوات عساف میں ایک بس اسٹاپ پر اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کا الزام عاید کیا گیا تھا ۔ اس واقعے میں دو فوجی ہلاک اور ایک فوجی سمیت دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسرائیل کی داخلی سکیورٹی سروس شین بیت نے اس فلسطینی نوجوان پر اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ایک اور یہودی بستی عفرا میں بھی فائرنگ کا الزام عاید کیا تھا۔ فائرنگ کے اس واقعے میں ایک نومولود بچہ ہلاک اور سات افراد زخمی ہوگئے تھے۔9 دسمبر کو اس واقعے میں ایک حاملہ عورت شدید زخمی ہوگئی تھی ۔اس کے ہاں ایمرجنسی آپریشن کے ذریعے قبل از وقت بچہ پیدا ہوا تھا اور وہ کچھ دیر بعد دم توڑ گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اس کے بعد 12 دسمبر کو ایک چھاپا مار کارروائی کی تھی جس میں عاصم برغوثی کا بھائی 29 سالہ صلاح جاں بحق ہوگیا تھا۔فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری بازو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صلاح برغوثی اس کا کارکن تھا۔اسرائیلی فوج نے گذشتہ ماہ عاصم برغوثی کو گرفتار کر لیا تھا ۔حماس نے ایک بیان میں برغوثی کی تعریف کی تھی اور فلسطینی مزاحمت کو سراہا تھا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ اس کا رکن ہے۔

اسرائیلی فوج آئے دن حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کرتی رہتی ہے لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی ان کارروائیوں کی مذمت کرتی ہیں اور انھیں غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔ ایک فلسطینی تنظیم بی تسلیم کا کہنا ہے کہ ’’ فلسطینیوں کے مکانوں کو ٹرائل یا کوئی ثبوت پیش کے بغیر مسمار کیا جارہا ہے‘‘۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں قریباً چار لاکھ یہودی آباد کار رہ رہے ہیں۔ وہ چھوٹی بستیوں سے بڑے شہروں تک رہ رہے ہیں ۔ ان کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس میں قریباً دو لاکھ یہودی آباد کاروں کو بسایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں