سعودی طلباء نے مکہ مکرمہ کے ایک پارک کو تجریدی آرٹ کا شاہکار بنا دیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے 150 طلباء، طالبات اور آرٹسٹوں نے مکہ معظمہ کے ایک پارک کو تجریدی آرٹ کا خوبصورت نمونہ بنا کر اس کا نقشہ بدل دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈیرھ سو سعودی آرٹسٹ طلباء و طالبات نے 'مکہ میں زندگی' کے عنوان سے ایک اپنے آرٹ کا جادو جگانے کا منفرد پروگرام شروع کیا۔ انہوں‌نے خاکوں کی مدد سے پارک میں مختلف تصاویر اور پینٹنگز بنا کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ جمالیاتی حسن کے دل دادہ افراد کے لیے پارک میں بنائے گئے خاکے خاص غیرمعمولی کشش رکھتے ہیں۔ تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے تیار کردہ خاکے دیکھنے والوں کی نگاہوں کو خیرہ کردیتے ہیں۔ انہوں نے پارک میں مختلف خاکے تیار کرکے معنوی اقدار اور ترقی پسند آرٹ کے بہترین نمونے تخلیق کیے ہیں جنہیں ہرخاص وعام کی طرف سے غیرمعمولی طورپر سراہا گیا ہے۔

اس منفرد پروگرام کی ایک رضا کار طالبہ مریم عولقی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبح مکہ معظمہ کے الحسینیہ پارک میں آئیں اور دیگر رضاکاروں کے ساتھ مل کر پارک کے فرش اور وہاں پر بنائی گئی دیگر اشیاء کو مختلف رنگوں سے سجانا شروع کر دیا۔

اس کا کہنا ہے کہ مجھے یہ سب کچھ کرکے بہت خوشی ہوتی ہے کیونکہ اس سے میں اور دیگر رضا کار اپنے فن کے اظہار کے ساتھ شہریوں کو ایک نئے ماحول سے روش ناس کرتے ہیں۔

پارک میں خاکے تیار کرنے والی احلام المالکی نے کہا کہ جیسے ہی اس پروگرام کا اعلان ہوا تو میں نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اس میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ہم مختلف تخیلات کے اظہار پر مبنی خاکے بناتے اور پارک کی کرسیوں اور دیگر چیزوں رنگوں سے سجاتے ہیں۔

ثقافتی اہمیت کے حامل اس پروگرام میں شامل اسراء المسعودی نے کہا کہ پارک میں خاکے بنانا اور دن بھر دھوپ میں کام کرنا بہت مشکل ہے مگر ہم اپنے آرٹ سےبہت خوش ہیں اس لیے ہمیں تھکاوٹ اور دھوپ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

بچوں میں محبت پیداکرنے کے لئے احسان ھوساوی اور غدیر الروقی نے منفرد کارٹون تیارکیے ہیں۔ پارک میں آنے والے بچے انہیں دیکھ کر بہت محفوظ اور لطف اندوز ہوتےہیں۔ یہ کارٹون3D ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔

پارک کے مختلف راستوں کوں کو رنگوں سے سانے والی مریم کلنتن اور مناھل برناوی کا کہنا ہے کہ فن کو زندہ کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ ہم تمام شرکاء نے جمالیات حسن کوپارک میں خاکوں کی شکل میں پیش کرنےکا فیصلہ کرکے اسے زندہ کرنے کی منفرد کوشش کی ہے۔

"مکہ زندگی پروگرام" کے سپر وائزر اور ام القریٰ یونیورسٹی میں سیاحت و ہوٹلنگ کے شعبے کے انچارج ڈاکٹتر علی احمد القاسم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرت ہوئے کہا کہ پارکوں کو انواع واقسام کے خاکوں سے مزین کرنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے۔ یہ ایک رضاکارانہ مہم ہے جس کا مقصد ایک طرف آرٹسٹوں کو اپنے فن کے اظہار کا موقع فراہم کرنا اور دوسری طرف شہر مقدس میں پارکوں کوترقی یافتہ بنانا ہے۔

انہوں‌نے بتایا کہ پارک میں خاکے تیار کرنے والی ٹیم میں 30 طلباء، 100 طالبات اور 20 ماہر خاکہ ساز شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں