سعودی شہری کا ملک بھرمیں 'السدر' کے ایک کروڑ پودےلگانے کا پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں کاشت کاری اور زراعت کے ایک شوقین شہری نے بے شمار فواید کے حامل 'السدر' نامی پودے کی غیر مسبوق کاشت کاری کا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت وہ مملکت میں ایک کروڑ پودے لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کاشت کاری اور پھولوں کی افزائش وزراعت کے شوقین محمد عبداللہ العامری نے مملکت کے مختلف شہروں میں السدرکے ایک کروڑ پودے لگانے کا اعلان کیا۔ انہوں‌نے السدر کی کاشت کے طریقہ، اس کی بیج اور نرسری کے حصول، اس میں سرمایہ کاری اور پودوں کی دیکھ بحال کے حوالے سے مفت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں العامری نے کہا کہ اس کا فارم مغربی الریاض میں 'المزاحمیہ' میں واقع ہے۔ وہاں پر دیگر پھل دار اور پھول دار پودوں کے ساتھ مورنگا یا سہانجنا کی کی کاشت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں مشہور پھل دار پودے السدر کی کاشت ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان پودوں کی کاشت کاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عبداللہ العامری السدر اور مورینجا آرگنائزیشنز کے رکن بھی ہیں۔ اس کے علاوہ مملکت میں السدر کی کاشت کے لیے قائم رابطہ گروپ کے چیئرمین ہیں۔ ان اداروں کے ساتھ وابستگی نے انہیں السدر کی وسیع پیمانے پرکاشت کاری کا موقع فراہم کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے بتایا کہ تین سال کے دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ السدر پودے کو شہریوں میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہے۔ میں نے اس پودے کی کاشت کے لیے اپنی تمام مہارت اور صلاحیت استعمال کی۔ اس کی وسیع پیمانے پر کاشت کے لیے وسیع رقبے پر فارم تیار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پودے کی کاشت کاری کے لیے لوگوں میں آگاہی اور معلومات فراہم کرنے، اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے، تجارتی بنیادوں پر اس میں سرمایہ کاری اور دیگر امور کے بارے میں لوگوں کو مفت معلومات فراہم کرنا شروع کی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عبداللہ العامری نے کہا کہ انہوں نے مملکت میں السدر کےایک کروڑ پودے لگانے کا اعلان عزم کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ہدف اگرچہ مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ میں نے اپنا ہدف پورا کرنے کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا ہے۔ اس کے تحت ہر شہر، گائوں، زرعی فارموں، خالی مقامات، بڑی شاہرائوں اور رہائشی کالونیوں میں پبلک مقامات پر یہ پودا بڑی تعداد میں فراہم کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں العامری کا کہنا تھا کہ سدر پودے کے پارکوں میں‌خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ مقامات مختص کیے گئےہیں۔ ان کی رہ نمائی کے لیے خصوصی پروگرامات بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ السدر پودے کے 100 درخت پھل دار ہوچکے جب کئی پودوں کے ساتھ شہد کی مکھیوں کے چھتے موجود ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں العامری نے کہا کہ السدر پودے کی کاشت معاشی فواید کا ذریعہ ہے۔ وسیع بنیادوں پر اس کی کاشت کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور اس پودے کی کاشت میں سرکاریہ ماری کے بے پناہ معاشی فواید ہیں۔ اگر ہم سعودی عرب کے ہر بڑے شہر سد کی کاشت میں کامیاب ہوجائیں توہم ایک کروڑ پودوں سے ہر گورنری سے ایک ارب ریال کما سکتےہیں جب کہ مجموعی طورپر یہ اس پودے سے سالانہ حاصل ہونے والی آمدنی ایک کھرب ریال سے زیادہ ہے۔

السدر پودے کے فواید کے بارے میں بات کرتے ہوئے العامری نے کہا کہ سدر کا تذکرہ قرآن پاک اور حدیث نبوی میں‌بھی موجود ہے۔ سعودی عرب پوری دنیا میں واحد خطہ ہے جہاں یہ پودا دیہی علاقوں میں وافر مقدارمیں پایا جاتا ہے۔ اس سے السدر حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ گرم علاقوں کا پودا ہے جسے یورپ اور ٹھندے علاقوں میں کاشت نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ کہ درمیانے درجہ حرارت میں یہ السدر کوشکی، سردی، گرمی، رطوبت اور پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ اسے بہت زیادہ آبیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تہامہ، الباحہ اور بعض دیگر مقامات پر 1500 سال پرانے سدر کے درخت موجود ہیں۔

انہوں‌نے بتایا کہ سدر کے پھل سے 20 سے40 تک مختلف مصنوعات اورادویات تیار کی جاتی ہیں۔ اس پھول شہد کی مکھیوں کواپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کے پتوں سے صابن اور کاسمیٹکس تیارکی جاتی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہواہے کہ سدر کےپتے انیمیا اور بالوں کی امراض سے بچائو میں بھی معاون ہیں۔

سدر کے پودے کی کل چار اقسام ہیں اور سال میں دو بار اس کی کاشت کاری کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس کی کاشت کاری کا اہم وقت ماچ کا کہنا ہے۔ یہ سال میں دو بار پھل دیتا ہے۔ اس کی مشہور اقسام میں دیہی سدر، الھجین سدر، چینی اور پاکستانی سدر،العناب اور خشکی کا سدر زیادہ مشہور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں