.

ایرانی صدر کے دورہ عراق کے درپردہ مقاصد کیا ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی کل سوموار کو عراق کے سرکاری دورے پر بغداد پہنچے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد روحانی کا یہ عراق کا پہلا دورہ ہے۔ ان سے ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بغداد کا دورہ کیا۔ وزیر خارجہ کی ایک دن قبل آمد کا مقصد صدر حسن روحانی کے دورے کے لیے راہ ہموار کرنا اور ان کے دورے کے اہداف و مقاصد کے بارےمیں عراقی حکام کو آگاہ کرنا تھا۔

عراق اور ایران کےسرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حسن روحانی کے دورہ بغداد کا مقصد دو طرفہ تعاون اور تعلقات کا فروغ ہے۔ ایران موجودہ حالات میں عراق کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ اسی طرح تہران کی طرف سے بغداد کو یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہےکہ مشکل وقت میں ایران عراق کی پشت پر کھڑا ہوا۔ ایرانی خبر رساں ادارے 'تسنیم' کے مطابق صدر روحانی نے اپنے دورہ عراق کے دوران اسی کا اظہار کیا تاہم صدر حسن روحانی کے دورہ عراق کے تین اہم مقاصد بیان کیے جاتے ہیں۔ ان تینوں اہداف کا ایران اور عراق کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں کوئی تذکرہ نہیں۔

عراق کے راستے بحیرہ روم تک رسائی

ایرانی صدر کے دورہ عراق کا ایک بڑا ہدف تہران کا بحیرہ روم تک رسائی کے لیے عراق سے راستہ مہیا کرنا ہے۔ اس سے قبل ایران یہ مقصد شام اور لبنان کے راستوں سے حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرچکا ہے۔ البتہ عراق کے راستے بحیرہ روم کے پانیوں تک ایران کی رسائی تہران کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوگی۔

بحیرہ روم تک ایران کی رسائی کوئی نئی کوشش نہیں بلکہ یہ سلسلہ صدیوں‌پرمحیط ہے۔حتیٰ کہ ایران اس طرح کی کوششیں ظہور اسلام سے پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ اس کا اندازہ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر یحییٰ رحیم صفوی کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سرحدیں وہ نہیں جہاں ایران آج ہے بلکہ جنوب میں ایران کی سرحد لبنان سے آگے بحیرہ روم تک پھیلی ہوئی ہے۔

مارچ 2015ء کو ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی نے کہا تھا کہ ایران اس وقت بحیرہ روم اور باب المندب کے دھانے پر ہے۔ ان کے اس بیان سے ایک روز قبل صدرحسن روحانی کے مشیر علی یونسی نے کہا تھا کہ ایران اب ایک شہنشاہت بن چکا ہے اور اس نے کھویا ہوا ماضی واپس لے لیا ہے۔ قدیم ایران کا دارالحکومت بغداد تھا اور آج بغداد ہمارے پاس ہے، ہماری ثقافت کی سرحدیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کا اشارہ ظہور اسلام سے قبل کی فارسی ساسانی بادشاہت کی طرف تھا۔

امریکی پابندیوں کا توڑ

ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ عراق کا دوسرا مقصد مریکا کی طرف سے تہران پر عاید کردہ پابندیوں کو ناکام بنانا ہے۔ ایرانی صدر نے ایک ایسے وقت میں عراق کا دورہ کیا ہے جب بغداد اور تہران کے درمیان جارتی روابط پر عراق پر امریکا کی طرف سے سخت دبائو ہے۔امریکا عراق میں فرضی تجارتی کمپنیوں کے ذریعے امریکی دبائو اور پابندیاں کم کرنا چاہتا ہے۔ ایران کو توقع ہےکہ عراق کی تہران نواز ملیشیائیں ایران کے لیے عراق میں مناسب اقتصادی اور تجارتی ماحول فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔

اگرچہ امریکا نے عارضی طور پر عراق کو ایران پر پابندیوں استثناء دیا تھا مگر ایران نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق کے ساتھ تجارت اور اقتصادی منصوبوں کو مزید گہرا کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔

حسن روحانی کو اندازہ ہے کہ عراق ایرانی معیشت کے لیے وہ واحد پھیپھڑہ ہے جس کی مدد سے ایرانی معیشت سانس لے رہی ہے۔

عراق کی منڈی تک رسائی

ایرانی صدر کے دورہ عراق کا تیسرا مقصد عراق کی تجارتی منڈی تک رسائی ہے۔ بغداد روانگی سے قبل حسن روحانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا کہ عراق اور ایران کا باہمی تجارتی حجم 12 ارب ڈالر سالانہ ہے اور ہم سے 20 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتےہیں۔

ایرانی حکام کی طر ف سے جاری کردہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عراق کے لیے ابرانی درآمدات کا حجم 2018ء کے دوران ترکی کی برآمدات سے بڑھ گیا ہے۔

عراق ۔ ایران مشترکہ ایوان صنعت و تجارتی کے سیکرٹری جنرل حمید حسینی نے 8 فروری 2019ء کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی عراق کے لیے برآمدات 8 رب 70 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں۔