.

ایران نے غیر قانونی طور سے لبنان کی مارکیٹ کو اپنے فولاد سے بھر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران خود پر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں کو چکمہ دینے کے لیے بعض عرب ممالک (بالخصوص عراق اور لبنان) میں پھیلی ہوئی اپنی ملیشیاؤں کے نیٹ ورکس کو کام میں لا رہا ہے۔ اس سلسلے میں نقد کرنسی کے مقابل مارکیٹوں میں غیر قانونی طور پر ایرانی مصنوعات کو پھیلایا جا رہا ہے۔

امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی کوششوں کے ضمن میں تہران نے لبنانی مارکیٹ کو ایرانی فولاد کی بڑی مقدار سے بھر دیا ہے۔ اس فولاد کو بیروت میں سائنٹفک ریسرچ کونسل کی تجربہ گاہ کے معائنے سے بھی نہیں گزارا گیا۔ یہ تجربہ گاہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مذکورہ فولاد بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔

معلومات کے مطابق فولاد سے لدے ایرانی بحری جہاز نہر سوئز کے ذریعے شام کی لاذقیہ بندرگاہ پہنچ رہے ہیں۔ یہاں اس مال کو اتار کر خشکی کے راستے بیروت منتقل کیا جاتا ہے اور پھر لبنانی مارکیٹ میں فی ٹن 150 ڈالر سے بھی کم قیمت میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ (یہ نرخ یورپ اور یوکرین سے قانونی طور پر درآمد کیے جانے والے فولاد کے فی ٹن نرخوں سے 25% کم ہیں)۔

البتہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق ایک ایرانی بحری جہاز گزشتہ ایک ماہ سے شام کی طرطوس بندرگاہ پر موجود ہے جہاں اس پر لدا فولاد اتارا جانا تھا تا کہ اسے شامی مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکے۔ تاہم شامی حکام نے اس کو مسترد کر دیا کیوں کہ شام میں خام شکل کے علاوہ کسی بھی صورت میں فولاد کی درآمد ممنوع ہے۔ شام میں فولاد کی فیکٹریاں ہیں جو خشکی کے راستے ٹرکوں کے ذریعے اپنا مال لبنانی مارکیٹ میں بھیجتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی معلومات کے مطابق لبنانی ملیشیا کے ہمدرد بعض تاجر "وساطت کار" کے ذریعے ایرانی فولاد خریدتے ہیں اور اس کارروائی میں لبنانی بینکوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

تہران کوشش کر رہا ہے کہ لبنان کی مارکیٹ میں غیر قانونی طریقے سے فولاد پہنچا کر اس کے مقابل ادائیگی کے ذریعے نقد کرنسی (ڈالر) حاصل کرے۔ یہ امر ایران پر عائد اُن پابندیوں کے منافی ہے جن کے تحت تہران کے ساتھ اقتصادی لین دین ممنوع ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرنے والے با خبر لبنانی ذرائع کے مطابق ایرانی فولاد فی ٹن کے عالمی نرخوں سے 100 ڈالر کم قیمت میں فروخت کیا جا رہا ہے (یعنی 420 ڈالر میں جب کہ غیر ایرانی فولاد کی قیمت فروخت 520 ڈالر ہے)۔ لبنان میں فولاد درآمد کرنے والے تاجروں کو اس سلسلے میں سخت شکایت ہے کیوں کہ وہ قانون کے مطابق کسٹم ڈیوٹی ادا کر کے دیگر ممالک سے فولاد منگواتے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی فولاد کے بحری جہازوں پر کوئی نگرانی نہیں ہوتی اور وہ کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی بھی نہیں کرتے۔ بالخصوص جب کہ ایرانی فولاد کے گزرنے کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہیں "حزب الله" کے زیر کنٹرول ہوں۔ اس طرح لبنان کے قومی خزانے کو کسٹم ڈیوٹی سے محروم کیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں لبنانی کمپنیوں کے مالکان ایرانی فولاد کی "نوعیت اور کوالٹی" پر بھی عدم اطمینان کا شکار ہیں جو کہ لبنان میں زیر عمل بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ تعمیرات میں ایرانی فولاد کے استعمال سے لوگوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔

لبنان کئی ممالک سے فولاد درآمد کرتا ہے۔ ان میں سعودی عرب، قطر، یوکرین، روس، ترکی اور آخر میں ایران شامل ہے۔ علاوہ ازیں ایران سے پستہ، زعفران اور بجلی سے چلنے والے بلائنڈرز بھی درآمد کیے جاتے ہیں۔

حزب اللہ کے مخالف لبنانی صحافی اور سیاسی شخصیت نوفل ضو کے مطابق اس فولاد اسکینڈل کے دو پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ حزب اللہ اور ایران مل کر تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے ساتھ کھلواڑؑ کر رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس کے نتیجے میں لبنانی ریاست کے خزانے کو لاکھوں ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے کیوں کہ ایرانی فولاد بنا کسی کسٹم ڈیوٹی یا ٹیکس کے لبنان میں داخل ہوتا ہے۔

نوفل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لبنان میں ایرانی فولاد کی اسمگلنگ کا عمل ماضی میں عراق میں دیکھا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور ایسے جرائم کا ارتکاب ہوا ہے جن کو دہشت گردی کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے۔ حزب اللہ کی اس کارستانی نے لبنان کو نئے چیلنج اور ایک نئے اسکینڈل کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔