.

سعودی نوجوان خاتون نے اپنے فن سے پتھروں کو زبان دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے شہر الخبر میں مقامی نوجوان خاتون منی الملیکی نے پتھروں پر فن پارے تیار کرنے کا منفرد شوق اپنایا ہے۔

منی نے اپنے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے کو ورکشاپ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں وہ اپنا زیادہ تر وقت مختلف نوعیت کے پتھروں اور چٹانوں کے ٹکڑوں پر رنگوں کے ذریعے خوب صورت تصاویر بناتے ہوئے گزارتی ہیں۔ منی نے اپنے فن کے لیے موزوں پتھروں کی تلاش کے واسطے مملکت کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا جن میں العلا، حائل اور ریاض شامل ہیں۔

نوجوان سعودی خاتون پتھروں پر اس طرح کے فن پارے نقش کرتی ہیں جو دیکھنے والوں سے پسندیدگی کی سند اور داد وصول کیے نہیں رہتے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سعودی مصورہ منی نے کہا کہ "یہ فن صرف میرا شوق نہیں بلکہ یہ میری توانائی کا نچوڑ اور میرے احساسات اور افکار کا اظہار ہے۔ میں نے یہ کام 4 سال قبل شروع کیا تھا جب میں کاغذ کے علاوہ فن پاروں کی تیاری کے لیے گھر میں کوئی دوسرا مواد تلاش کر رہی تھی۔ اس دوران مجھے گھر میں ایک پتھر مل گیا اور میں نے اس پر مصوری کا شوق پورا کر ڈالا۔ اس کو میرے آس پاس موجود سب ہی لوگوں نے پسند کیا تو مجھے مزید حوصلہ ملا اور میں نے مختلف حجم اور مختلف نوعیت کے پتھروں تصاویر بنانا شروع کر دیں"۔

منی الملیکی کہتی ہیں کہ "ایک فن پارہ تیار کرنے میں انہیں کئی روز لگ جاتے ہیں۔ سب سے طویل مرحلہ نئے خیال کا آنا ہوتا ہے۔ پتھروں پر فن پاروں کے جمال کی بنیاد باریک بینی ہے"۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں تو وہ آسان اور سادہ تصاویر اور نقوش بنایا کرتی تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے خود کو چیلنج کرتے ہوئے زیادہ پیچیدہ فن پارے تیار کرنا شروع کر دیے۔ ہر مرتبہ کامیاب ہونے کے بعد وہ مزید مشکل صورت اور زیادہ چھوٹے پتھر کا انتخاب کرتیں۔ منی کے مطابق یہ فن بہت زیادہ صبر اور مشقت کا متقاضی ہے۔

منی نے اپنے فن پارے بہت سی نمائشوں میں پیش کر چکی ہیں جہاں آنے والوں نے ان کے فن اور کام کو بہت پسند کیا۔ اس حوصلہ افزائی پر انہوں نے اپنے پتھروں کے فن پاروں کی تصاویر سوشل میڈٰیا پر بھی پوسٹ کیں۔ اس طرح ان کے فن کو شہرت بھی ملی اور بہت سے لوگوں نے ان کے فن پاروں کو خریدنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔