.

اولاد سے تنگ بے رحم اردنی نے اپنا ہی بچہ سمندر برد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تھائی لینڈ میں پولیس نے ایک اردنی شہری کو حراست میں لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے شیر خوار بچے کو اس کے واکر سمیت سمندر میں پھینک کر قتل کردیا۔ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے بچے کو خود قتل کیا کیونکہ وہ اولاد نہیں چاہتا تھا۔

تھائی لینڈ کے ایمی گریشن حکام کا کہنا ہے کہ اپنے ایک سالہ بچے کو سمندر میں پھینکنے والے شخص کی شناخت وائل نبیل سلمان زریقات کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 52 سال ہے۔

بچے کے قتل کا یہ واقعہ تھائی لینڈ کے شہر باٹایا میں پیش آیا جہاں ایک اردنی شہری چھٹیاں گذارنے اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ موجود تھا۔

اردنی شہری کو پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب ماہی گیروں کو ایک شیر خوار کی میت ملی۔تھائی ایمی گریشن سوراخاتی ھاکبارن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرتےہوئے کہا ہے کہ اس نے ایک سالہ بچے کو اس کے واکر کے ساتھ باندھا اور سمندر میں پھینک دیا۔ وہ بچے نہیں چاہتا تھا، اس لیے اس نے ایسا کیا۔

سفاک شخص کی اہلیہ نے بتایا کہ اس کا والد بچوں سے تنگ تھا اور اس نے بہت سے لوگوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ بچوں کو نہیں چاہتا۔ ہمیں خدشہ تھا کہ وہ کسی وقت کسی بچے کو مار دے گا۔

تھائی لینڈ کے قانون کے تحت اردنی شہری پرمقدمہ چلایا جائے گا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔