.

شام : باغوز میں سیکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ، داعش شکست کے دہانے پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں داعش کے جنگجو اپنے آخری ٹھکانے باغوز میں شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) سے لڑائی میں شکست سے دوچار ہونے کو ہیں۔ اس گروپ سے وابستہ سیکڑوں انتہا پسندوں اور ان کے خاندانوں نے خود کو امریکا کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے حوالے کردیا ہے۔

باغوز شام میں داعش کا آخری ٹھکانا رہ گیا ہے۔شام اور اس کے پڑوسی ملک عراق میں گذشتہ چار سال کے دوران میں داعش سے تمام علاقے چھن چکے ہیں ۔تاہم وہ ٹولیوں کی شکل بعض علاقوں میں اب بھی برسرپیکار ہیں اور حملے کرتے رہتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش شام میں شکست سے دوچار ہونے کے باوجود گوریلا جنگ جاری رکھیں گے۔

ایس ڈی ایف نے باغوز میں داعش کے خلاف اتوار کو فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا تھا ۔عر ب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل اس ملیشیا نے گذشتہ کئی ماہ سے اس گاؤں کا محاصرہ کررکھا تھا اور اس کی حمایت میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے تھے۔

ایس ڈی ایف کے ایک عہدہ دار مصطفیٰ بالی نے منگل کے روز بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں اور خاندانوں پر مشتمل ایک بڑے گروپ نے اجتماعی طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں اور خود کو حوالے کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ جب ہماری فورسز اس امر کی تصدیق کردیں گی کہ جو کوئی بھی ہتھیار ڈالنا چاہتا ہے اور اس نے ایسا کردیا ہے تو پھر داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی دوبارہ شروع کردی جائے گی‘‘۔

قلعہ نما باغوز پر رات راکٹوں کی بوچھاڑ کی گئی تھی اور اس کے مختلف حصوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے تھے لیکن منگل کی صبح صورت حال قدرے پُرامن تھی۔ایس ڈی ایف کے ترجمان کینو جبرائیل نے الحدث ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ کارروائی ختم ہوچکی یا ختم ہونے کی قریب ہے ۔تاہم برسرزمین اس کے عملی طور مکمل ہونے میں ابھی کچھ مزید وقت درکار ہوگا‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک لڑائی میں داعش کے 25 جنگجو ؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے،ان کے علاوہ فضائی حملوں میں اس گروپ کے لاتعداد جنگجو مارے گئے ہیں۔

باغوز میں داعش کے خلاف اس فیصلہ کن معرکے کے دوران میں بے گھر ہونے والے افراد یا خود کو ایس ڈی ایف کے حوالے کرنے والوں کو شام کے شمال مشرقی علاقے الحول میں قائم ایک کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کیمپ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے کیونکہ یہ کیمپ قریباً بیس ہزار افراد کو پناہ دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن اس وقت وہاں 66 ہزار سے زیادہ افراد رہ رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دسمبر کے بعد سے باغوز سے اس کیمپ تک سفر کے دوران میں 106 افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر شیرخوار بچے تھے۔کیمپ تک پہنچنے میں چھے گھنٹے لگتے ہیں۔یہاں داعشی جنگجوؤں کی بیویوں اور ان کے خاندانوں کو بھی منتقل کیا گیا ہے۔