.

ہتھیاروں پرکنٹرول صرف ریاست تک محدود رہنا چاہیے:آیت اللہ سیستانی کی ایرانی صدر سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی السیستانی نے کہا ہے کہ ہتھیاروں پر کنٹرول صرف ریاست تک محدود ہونا چاہیے ۔انھوں نے کہا ہے کہ عراق اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی خود مختاری پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

انھوں نے یہ بات ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات کے بعد بدھ کو ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’وہ عراق کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ریاستوں کی خود مختاری کے احترام ، ایک دوسرے کے داخلی امور میں عدم مداخلت اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لیے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کریں گے‘‘۔

عراقی شیعہ رہ نما نے اس خطے میں علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں میں توازن اور اعتدال کی ضرورت پر زوردیا ہے تاکہ مزید المیوں اور تباہی سے بچا جاسکے ہیں۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی السیستانی نے2014ء میں عراقیوں پر داعش کے خلاف مسلح ہونے پر زور دیا تھا ۔اس کے بعد شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی تشکیل پائی تھی۔اس میں ایرا ن کے حمایت اور تربیت یافتہ شیعہ گروپ بھی شامل ہیں ۔ گذشتہ برسوں کے دوران میں الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کو عراقی فورسز میں ضم کردیا گیا تھا اور بہت سے سابق جنگجو اب عراقی پارلیمان کے ارکان ہیں۔