ادلب: جیل پرروسی بمباری کے بعد دسیوں شدت پسند قیدی فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں ایک جیل پر روسی طیاروں کی بمباری کےبعد وہاں پر قید کیے گئے دسیوں قیدیوں کو فرار کا موقع مل گیا۔

العربیہ چینل کے برادر ٹی وی چینل الحدث کی رپورٹ کے مطابق ادلب کی جیل پر روس اور ترکی کے درمیان باہمی مشاورت کےبعد بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں دسیوں انتہا پسند قیدی فرار ہوگئے۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے 'آبزر ویٹری' کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ادلب کے علاقے میں روسی فوج کی فضائی جارحیت میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سیرین آبزر ویٹری کی طرف سے ٹیلیفون پر الحدث چینل کو بتایا گیا ہے کہ ادلب کی جیل پر بمباری کے بعد وہاں‌ قید کیے گئے دسیوں قیدی فرار ہوگئے۔ ان میں بعض اسد رجیم کے حامی ملیشیائوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ھیۃ تحریر الشام کی طرف سے مفرور قیدیوں کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے مگربہت سے اب بھی مفرور ہیں۔

ادلب کی جیل پر روسی بمباری میں تُرکی کا بھی تعاون حاصل رہا ہے۔ ترکی دنیا کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے حالانکہ ترکی نے کئی سال سے شام میں لڑنے والے انتہا پسندوں کو تحفظ فراہم کیا۔

ادھر روسی فوج نے دعویٰ‌کیا ہے کہ اس نے بدھ کو ادلب میں ایک فوجی کارروائی کے دوران اسلحہ کا ایک گودام تباہ کردیا۔
روسی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ادلب میں ترکی کے تعاون سے ایک کارروائی کی گئی جس میں النصرہ فرنٹ کا اسلحہ کا ایک گودام تباہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں