داعشی جنگجوؤں کے گھرانوں کا عراق میں داخلہ تنازع کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے منگل کے روز اعلان میں کہا تھا کہ داعش کے ارکان کے اہل خانہ میں شامل 20 ہزار کے قریب افراد شام سے عراق واپس جائیں گے۔ ان میں بڑی تعداد خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ علاوہ ازیں داعش سے تعلق رکھنے والے وہ جنگجو اور ہمنوا افراد بھی شامل ہیں جو موصل کی جنگ کے دوران عراق سے فرار ہو گئے تھے۔ عراق نے 2017 میں داعش تنظیم کے خلاف اپنی فوج کی فتح کا اعلان کیا تھا۔

ریڈ کراس کے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے عراق کے صوبے نینوی کی کونسل کے رکن اور صوبائی کونسل میں انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ غزوان الداؤدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ معاملہ علاقے کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو گا جہاں کے لوگ پہلے ہی موصل کے جنوب میں داعشیوں کے اہل خانہ کے بعض کیمپوں کے وجود کے باعث تنگی میں ہیں۔ غزوان کے مطابق مذکورہ اہل خانہ اور گھرانوں نے نینوی کے لوگوں کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں، مرکزی حکومت اور عالمی برادری سے اس سلسلے میں مدد کی اپیل کی۔ غزوان کا کہنا تھا کہ عراق انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف انسانیت کے دفاع میں عالمی برادری کا شریک رہا ہے لہذا عراق کو تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے باور کرایا کہ داعشیوں کی واپسی ایک بڑے سماجی مسئلے کو جنم دے گی کیوں کہ داعش کے ارکان نے عراقی اقلیتوں بالخصوص یزیدیوں اور مسیحیوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔

غزوان کے مطابق داعشیوں کے بچوں کے ساتھ اگر دانش مندی اور سائنٹفک طریقوں سے نہیں نمٹا گیا تو یہ مستقبل کے لیے ٹائم بم بن جائیں گے۔ ان کی حقیقی بحالی عمل میں لائی جانی چاہیے تا کہ یہ لوگ شدت پسندی سے دور نیک انسان بن سکیں۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی تنظیموں اور عراقی حکومت کی جانب سے نفسیاتی بحالی کے پروگرام ترتیب دیے جائیں تا کہ ہمیں ایک اور بحران درپیش نہ ہو۔

دوسری جانب اسلامی جماعتوں کے امور کے ماہر ہشام الہاشمی کے مطابق اگست 2018 سے قبل 6 ہزار خاندانوں (27000 افراد) کی پہلی کھیپ واپس لوٹ کر آئی تھی۔ اب ان میں مزید 20 ہزار کا اضافہ ہو چکا ہے جو فرات کے مشرق میں لڑائی سے فرار ہو کر آئے ہیں۔ اس طرح مجموعی تعداد 47 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

ریڈ کراس کی جانب سے مذکورہ تعداد کے بارے میں الہاشمی نے کہا کہ "ان کے پاس عراقیوں کی حقیقی تعداد نہیں ہے لہذا ان افراد کو داعشی شمار کیے جانے کی زیادتی ہو گی۔ اس طرح عراق اور عالمی برادری ان لوگوں کے ساتھ داعشیوں جیسا معاملہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ ایک بڑی غلطی ہے اور ان لوگوں پر فیصلہ عائد کرنے سے قبل ان کی نوعیت کی تصدیق کر لینا چاہیے"۔

الہاشمی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر بتایا کہ عراق کے پاس کیمپوں میں داعشیوں کے خاندانوں کے 124000 کے قریب افراد موجود ہیں لہذا مزید 20 ہزار کے آنے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں