.

شام: خانہ جنگی میں 3 لاکھ 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں 2011ء کے بعد سے جاری عوامی بغاوت کی تحریک اور خانہ جنگی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ان میں 1 لاکھ 12 ہزار معصوم شہری شامل ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے 'سیرین آبزر ویٹری فارہیوم رائٹس' کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وسط مارچ 2011ء سے اب تک پونے چار لاکھ شامی خانہ جنگ کی نذر ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آغاز میں شام میں اسد رجیم کے خلاف اٹھنے والی تحریک پر امن تھی مگر اسد رجیم نے پر امن تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال شروع کیا۔ طاقت کے اندھا دھند استعمال کے جواب میں پر امن تحریک پر تشدد راستہ اختیار کر گئی اور اس میں کئی دوسرے فریق بھی کود پڑے۔

رپورٹ کے مطابق 15 مارچ 2011ء کے بعد اب تک 3 لاکھ 71 ہزار 222 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان میں 1 لاکھ 22 ہزار عام شہری، 21 ہزار بچے اور 13 ہزار خواتین شامل ہیں۔

گذشتہ برس 13 ستمبر کو سیرین آبزر ویٹری کی رپورٹ میں‌ بتایا گیا تھا کہ شام کی خانہ جنگی میں 3 لاکھ 60 ہزار شہری مارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی میں شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیائوں کے ایک لاکھ 25 ہزار جنگجو بھی شامل ہیں۔ ان میں سے نصف تعداد شامی فوجیوں‌ پر مشتمل ہے جب کہ لبنانی حزب اللہ کے 1677 ارکان بھی شام میں ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کے 67 ہزار جنگجو مارے گئے۔ ان میں نمایاں سیرین ڈیموکریٹک فورس کے جنگجوئوں کی نمایاں تعداد شامل ہے۔

اس کے علاوہ "داعش" اور النصرہ فرنٹ کے 66 ہزار جنگجو ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں آٹھ سالہ خانہ جنگی کے دوران ملک کی آدھی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی جب کہ 400 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔