.

قیدیوں کے خاندان حوثی ملیشیا کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار

شہریوں‌ کو اغواء، لوٹ مار اور جبری بے دخلی جیسے مسائل کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی طرف سے حراست میں لیے گئے شہریوں کے خاندان بھی مسلسل بلیک میلنگ کا سامناکررہے ہیں۔

یمن میں اسیران کے اہل خانہ پرمشتمل رابطہ کمیٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب گورنری میں اسیران کے 563 خاندان حوثی ملیشیا کی بلیک میلنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ حوثی ملیشیا قیدیوں کے اہل خانہ کو بلیک میل کرکے ان سے پیسے بٹورتے،اُنہیں جبری طور پر بے دخلی پر مجبور کرتے اور دیگر جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسیران کے اہل خانہ حوثیوں کی طرف سے جسمانی تشدد، اغواء اور املاک کے غاصبانہ قبضے جیسے سنگین جرائم کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

جمعرات کے روزاب گورنری میں حوثیوں کے ستائے شہریوں اور اسیران کے اہل خانہ نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں 189 خاندانوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر حوثی ملیشیا کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم بند کرنے، تشدد کا سلسلہ روکنے، اغواء اور املاک غصب کرنے کے جرائم کی روک تھام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسیران کے اہل خانہ کی رابطہ کمیٹی نے جبری طورپر حراست میں لیے گئے تمام قیدیوں کو فوری طورپر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسیران کی مائوں اور دیگر اہل خانہ نے چار سال سے جیلوں میں ڈالے گئے شہریوں پر وحشیانہ تشدد کی مذمت کی اور اپنے بیٹوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔