.

حزب اللہ اور ایران کا زور توڑنے کے لیے پومپیو لبنان جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار نے نے باور کرایا ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اسرائیل، لبنان اور کویت کے دوروں کا مقصد مشرق وسطی میں ایران کی مداخلت اور نفوذ کا مقابلہ کرنا اور عراق سے لے کر شام، لبنان اور یمن تک ایرانی ملیشیاؤں کے پھیلاؤ کو قابو کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بات صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کہی۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق پومپیو اپنے اسرائیل کے دورے کے دوران کئی جگہوں پر جائیں گے۔ یہ اس بات کا بالواسطہ اشارہ تھا کہ وہ گولان اور شاید لبنان کے ساتھ سرحد پر بھی جائیں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان مقامات کا دورہ کرنے والی شخصیات کے ہمراہ ہوتے ہیں اور انہیں باور کراتے ہیں کہ اسرائیل کی سرحد پر ایرانی خطرہ واقعتا موجود ہے اور شام میں ایران کو "قدم جمانے" سے اور لبنان میں حزب اللہ کو اس کی کارستانیوں سے روکا جانا چاہیے۔

نیتن یاہو کے برعکس امریکی چاہتے ہیں کہ لبنانیوں، عالمی برادری اور اسرائیل کو یہ بتایا دیا جائے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے نزدیک پورا لبنان حزب اللہ کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ امریکی انتظامیہ لبنانیوں اور ایران نواز شیعہ ملیشیا کے درمیان فرق رکھتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ پومپیو اس سے قابل قاہرہ میں اپنے خطاب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ "اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ لبنان اس کی ملکیت میں ہے تو وہ غلطی پر ہے"۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے نفوذ کا مقابلہ کرنے کے واسطے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کا جائزہ لے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کا دورہ لبنان میں مسلح افواج سمیت آئینی حکومت کے اداروں کے لیے امریکی سپورٹ کی تجدید کرے گا۔

عہدے دار کے مطابق پومپیو شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے نفوذ اور تصرفات پر امریکی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی باور کرائیں گے کہ ایران نواز لبنانی ملیشیا کے اقدامات لبنان اور خطے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا موقف مختلف رہا ہے۔ لبنانی انتخابات سے قبل امریکیوں نے لبنانیوں سے "درگزر" کا معاملہ کیا۔ تاہم انتخابات اور حکومت کی تشکیل کے بعد کئی امریکی اعلی عہدے داران یہ باور کرا چکے ہیں کہ لبنان کے فیصلے آئینی حکومتی اداروں کے ہاتھ میں ہونا چاہئیں جو لبنانی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اسی طرح امریکیوں کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے کہ لبنان کے فیصلوں پر حزب اللہ کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے اور لبنانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ حزب اللہ کو حکومت میں یا پارلیمنٹ میں موجودگی سے فائدہ اٹھا کر حکومت اور اس کے فیصلوں پر کنٹرول حاصل نہ کرنے دیں۔

بیروت میں پومپیو کی آمد حزب اللہ کے ہمدردوں اور معاونین کے لیے ایک اضافی تنبیہہ ہو گی کہ وہ ایران نواز ملیشیا کو سینے سے لگانا چھوڑ دیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس حوالے سے افراد ، جماعتوں اور حکومتی عہدے داران پر پابندیاں عائد کر دے۔ یہ اقدام کانگریس سے منظور شدہ قانون کے تحت عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔

پومپیو کے دورے کا مقصد لبنانی حکومتی عہدے داران کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو گا بلکہ وہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کو امریکی موقف اور سرخ لکیر سے آگاہ کریں گے۔

پومپیو لبنانیوں سے کہیں گے کہ امریکا نے اقتصادی اور سیاسی طور پر ایران کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور لبنانیوں پر لازم ہے کہ وہ عسکری یا طبی امدادات کے لیے ایران کی طرف نہ دیکھیں جیسا کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی جانب سے بات رکھی جا چکی ہے۔

اسی طرح امریکی وزیر خارجہ لبنانیوں کو باور کرائیں گے کہ ایران پر پابندیوں اور دنیا بھر میں حزب اللہ کے اسمگلنگ نیٹ ورکس کی تحلیل کے فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکا اس بات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا کہ حزب اللہ جنوبی امریکا اور افریقا میں آمدنی کے ذرائع سے ہاتھ دھونے کے بعد متبادل کے طور پر لبنانی ریاست سے فائدہ اٹھائے۔

پومپیو لبنانی حکومت سے یہ بھی کہیں گے کہ وہ اپنی سرحدوں پر گرفت کو مضبوط بنائے اور فضائی ، سمندری اور خشکی کے راستے حزب اللہ کو کسٹم کی ادائیگی کے بغیر اپنا سامان گزارنے سے روکے۔