.

فرانس نے 'داعشی' جنگجوئوں کے پانچ بچے لے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت نے شمال مشرقی شام میں موجود 'داعشی' جنگجوئوں کے 5 بچوں کو لے لیا ہے۔ ان بچوں کے والدین یا تو مارے گئے ہیں یا وہ بچوں سے جدا ہوچکے ہیں۔ ان بچوں کی عمریں پانچ سال یا اس سے کم ہیں۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ واپس لیے گئے پانچوں بچوں کا طبی اور نفسیاتی معائنہ کیا جائے گا۔ انہیں فرانس کے جوڈیشل حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔

فرانس پہنچائے گئے دعشی جنگجوئوں اقارب کو کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کے حوالے سے وزارت خارجہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق شام سے پانچوں بچوں کو فرانسیسی فوج کے ایک خصوصی طیارے پر پیرس لایا گیا۔ بچوں کی واپسی میں تعاون پر فرانس نے شام کی کرد فورسز کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی مائیں جنگ میں ماری جا چکی ہیں اور باپ ہلاک یا لاپتا ہیں۔ حکومت داعشی خاندانوں کے کم سن بچوں کو فرانس واپس آنے کی اجازت دے گا مگر ان کی مائوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے حال ہی میں کہا تھا کہ فرانس میں موجود داعشی خاندانوں کی طرف سے ان کے چھوٹے بچوں کی شام سے واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ہم ان بچوں کو ہرممکن تحفظ دیں گے اور داعش میں شامل ہونے والے ان کے والدین کے خلاف فرانس کی عدالتوں میں مقدمات چلائیں گے۔