غزہ : ٹیکسوں میں اضافے پر حماس کے خلاف مظاہرے ، چار محققین کی گرفتاری اور رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے مختلف گروپوں نے ٹیکسو ں کی شرح میں اضافے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ حماس کی سکیورٹی فورسز نے مظاہرے میں شریک چار محققین کو گرفتار کر لیا اور پھر انھیں چند گھنٹے زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔

غزہ کی پٹی کا اسرائیلی فوج نے گذشتہ بارہ سال سے برّی ، بحری اور فضائی محاصرہ کررکھا ہے اور اس کے بیس لاکھ سے زیادہ مکین گونا گو ں معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ایسے غزہ میں حماس کی حکومت نے اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے محاصل کی شرح میں اضافہ کردیا ہے جس کے خلاف گذشتہ تین روز سے سیکڑوں فلسطینی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

حماس کی سکیورٹی فورسز نے اس احتجاج میں حصہ لینے کی پاداش میں انسانی حقوق کے گروپ المیزان سے وابستہ دو محققین ، فلسطینی مراکز برائے انسانی حقوق کے ایک محقق اور الضمیر سے تعلق رکھنے والے ایک محقق کو گرفتار کر لیا۔تاہم انھوں نے ان چاروں محققین کو چند گھنٹے تک زیر حراست رکھنے کے بعد چھوڑ دیا ہے۔

انٹر نیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں حماس کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو لوگوں کے گھروں میں چھاپا مار کارروائیاں کرتے، مظاہرین پر لاٹھیاں برساتے اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔متعدد فلسطینی گروپوں نے ایک اجتماعی بیان پر دست خط کیے ہیں اور اس میں حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بند کردے۔نیز ٹیکسوں کی شرح کم کرے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں