.

حوثی باغیوں نے جامع مسجد الصالح سے قیمتی نَوادِر لوٹ لیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی شدت پسندوں نے دارالحکومت صنعاء میں واقع جامع مسجد الصالح کےعجائب خانے سےقیمتی تاریخی نَوادِر لوٹ لیے ہیں اور اب بازاروں میں ان کی فروخت شروع کی ہے جبکہ صنعاء میں نیشنل میوزیم اور وزارت ثقافت نے حوثیوں سے لوٹے گئے نوادر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر باغیوں نے ان نوادرات کو واپس کرنےسے انکار کردیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق صنعاء میں قومی آثار قدیمہ اتھارٹی کی طرف حوثی قیادت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لوٹے گئے نوادرات واپس کریں تاکہ انھیں جامع الصالح میں محفوظ رکھا جاسکے۔ تاہم حوثی باغیوں نے نوادرات دینے سے انکار کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل میوزیم اتھارٹی کی طرف سے آثارقدیمہ کی واپسی کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد انہیں مارکیٹ میں بلیک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ نوادرات آج نہیں بلکہ سنہ 2017ء سے غائب ہو رہے ہیں۔

خالص سونا

مقامی ذرائع کا کہنا ہےکہ حوثی باغیوں نے جامع صالح سے بعض ایسے نوادر بھی لوٹے ہیں جو صدیوں پرانے ہیں۔ ان میں حمیری دور کا خزانہ جو خالص سونے سے تیار کردہ نوادرات پر مشتمل ہے۔

خیال رہے کہ یمن کے سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح نے صنعاء میں السبعین کے مقام پر ایک مسجد تعمیر کی تھی۔ انھوں نے اپنے نام سے منسوب مسجد سے متصل ایک عجائب گھر بھی تعمیر کرایا تھا جس میں صدیوں پرانے اور قیمتی نوادرات رکھے گئے تھے۔

حوثیوں نے علی صالح کے ایک وفادار میجر جنرل مہدی مقولہ کے گھر سے بھی قیمتی نوادرات چُرا لیے تھے مگر بعد میں ان نوادرات کو وزارت ثقافت کے زیرانتظام نیشنل میوزیم میں جمع کرادیا تھا مگر اب حوثی جامع الصالح سے لوٹے گئے نوادارت کی واپسی سے انکاری ہیں۔

یمن کی آئینی حکومت نے باغیوں کو خبردار کیا ہے کہ لوٹے گئے نوادر کو امریکا اور دوسرے ملکوں میں بلیک میں فروخت کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔