.

ہم نے شام اور عراق میں 2 لاکھ جنگجو بھرتی کیے: پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسدارن انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے شام اور عراق میں پراکسی جنگ کے لیے 2 لاکھ جنگجو بھرتی کیے۔

ایران کے فارسی اخبار'سروش' کو انٹرویو میں جنرل محمد علی جعفری نے کہا کہ ان کے ملک نے عراق میں 1 لاکھ جنگجو بھرتی کیے اور اتنی ہی تعداد میں شام میں بھرتی کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا یہ بھرتیاں خطے کے ممالک کےحوالے سے ایرانی پالیسی کا حصہ ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارا مشن 'داعش' النصرہ محاذ اور شامی اپوزیشن کے خلاف جنگ جیتنا ہے۔
ادھر دوسری جانب عراق اور شام میں ایران ملیشیائوں کی مالی اور دفاعی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔

بغداد میں اپنےحامیوں کو اقتدار میں لانے کے لیے ایران نے پیسے کا استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیائوں سے دبائو ڈالا۔

دوسری جانب شام میں اسد رجیم کی مدد کے لیے شام نے افغانستان، پاکستان ور دوسرے ملکوں کے جنگجوئوں پر مشتمل 'فاطمیون' اور 'زینبیو' بریگیڈ تشکیل دیں۔

جنرل محمد علی جعفری کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج نے ایرانی تجربات عراق منتقل کرنے کے لیے بغداد کا دورہ کیا اور عراقی فوجیوں کی عسکری تربیت میں ان کی معاونت کی۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ عرق اورشام میں ملیشیائو‌ں کی تشکیل کا اعتراف کرکے خطے کےممالک میں مداخلت تسلیم کی ہے۔