اچھوتا پیشہ اپنانے والی سعودی نوجوان خاتون کیا تیار کرتی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی نوجوان خاتون "جواہر الدبیل" نے اپنے انوکھے اور دل چسپ خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے خوشبو دار جڑی بوٹیوں، قدرتی تیلوں اور پھلوں کو قدرتی اور صحت بخش صابن کی شکل دے دی۔ وہ اس فن میں مہارت حاصل کر کے صابن کو پر کشش قالب میں ڈھال رہی ہیں اور اب یہ کام ان کا پیشہ بن چکا ہے۔ مملکت کے شہر بریدہ میں رہنے والی جواہر کو اس سلسلے میں Creative Handwork Center کی سپورٹ بھی حاصل رہی۔

جواہر نے برطانیہ سے کامرس اینڈ مارکیٹنگ میں ڈگری حاصل کی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ "دوران تعلیم میں نے یہ بات نوٹ کی کہ برطانوی باشندے بازار سے زیادہ صابن نہیں خریدتے کیوں کہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غیر صحت بخش ہے۔ تقریبا ہر گھر میں صابن تیار کرنے کا ایک چھوٹا کارخانہ ہوتا ہے۔ بالخصوص ریٹائرڈ ہو جانے والے عمر رسیدہ افراد اپنے گھروں میں صابن تیار کرتے ہیں۔ میں جس خاتون کے گھر میں سکونت پذیر تھی اس کا بھی یہ ہی معمول تھا"۔

جواہر کے مطابق انہوں نے مذکورہ خاتون سے درخواست کی کہ وہ اس صابن کی تیاری کا طریقہ سکھا دے۔ بعد ازاں انہوں نے یونیورسٹی سے صابن سازی کے بنیادی کورس کی مفت تعلیم حاصل کی اور اللہ کے فضل سے اس میں مہارت حاصل کر لی۔ سعودی عرب لوٹنے کے بعد جواہر نے اس میدان میں اپنا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

سعودی نوجوان خاتون کا کہنا ہے کہ وہ "کیمیائی اور محفوظ رکھنے والے مواد" سے پاک صابن بنانا چاہتی ہیں۔ صنعتی صابن عمومی طور پر قدرتی روغن اور جلد کو نم آلود کرنے والے مواد سے خالی ہوتے ہیں۔ صنعتی صابن سے بعض لوگوں کو الرجی بھی ہو جاتی ہے۔

جواہر کہتی ہیں کہ "میں اپنے چھوٹے سے کارخانے میں جو قدرتی صابن تیار کرتی ہوں اس میں گلسرین اور قدرتی روغنوں کا استعمال کرتی ہوں مثلا روغن زیتون، روغن بادام اور کلونجی کا تیل وغیرہ۔ ان کے علاوہ جڑی بوٹیوں، کوئلہ، قہوے کے بیج اور شہد وغیرہ کا اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ یہ جلد کی بعض بیماریوں کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ مزید برآں الکحل سے پاک قدرتی خوشبو دار روغنوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے"۔

جواہر کے مطابق میلوں اور دیگر سرگرمیوں نے ان کی مصنوعات نمایاں کرنے میں مدد کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں