ترکی کی بکتر بند گاڑیاں شام کے صوبے ادلب میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

شام میں باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ اس وقت انقرہ کے حمایت یافتہ درجنوں مسلح شامی اپوزیشن گروپوں کا اہم ترین مشن ادلب صوبے کے دیہی علاقوں میں گشت کرنے والی ترکی کی بکتربند گاڑیوں کے ہمراہ رہنا ہے تا کہ ترک فوجیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ادلب اور اس کے دیہی علاقوں کے بڑے حصے پر "ہيئۃ تحرير الشام" (سابقہ النصرہ فرنٹ) کے کنٹرول کے باعث صوبہ شدید انارکی میں ڈوبا ہوا ہے جب کہ بعض مراکز پر ترکی کا پرچم لہرا رہا ہے۔

گزشتہ برس اگست کے اواخر میں انقرہ نے "النصرہ فرنٹ" کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے باوجود ترکی اس کی سپورٹ میں ملوث رہا۔ اس مقصد کے لیے ترکی نے اپنی جنوبی سرحد پر کھولی گئی غیر قانونی راہ داریوں اور گزر گاہوں کو تحفظ فراہم کیا۔

ترکی اور اس کی حلیف مسلح شامی اپوزیشن زمینی طور پر ترکی اور شام کے درمیان اسمگلنگ کی کارروائیوں میں مذکورہ گزر گاہوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کے ذریعے دونوں ملکوں کے بیچ مختلف چیزوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ ان میں نمایاں ترین چیز ایندھن ہے جو شام کی جانب سے ترکی میں داخل کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز ترکی کی 10 بکتر بند فوجی گاڑیوں نے شام کی سرحد پار کی۔ زمینی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان گاڑیوں کے ساتھ کم از کم 50 ترک فوجی اہل کار شام میں داخل ہوئے۔ زرائع کے مطابق ترکی کے گشتی دستوں کے ہمراہ ایک شامی مسلح اپوزیشن گروپ فيلق "الشام" کے عناصر تھے۔ یہ گروپ نیشنل لبریشن فرنٹ کا حلیف ہے جس کو انقرہ کی جانب سے عسکری اور لوجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔ یہ بکتر بند گاڑیاں شامی اراضی کے اندر داخل ہونے کے بعد ادلب کے مغربی دیہی علاقے میں جسر الشغور قصبے کی جانب چلی گئیں۔ ان میں سے بعض گاڑیاں جسر الشغور کے نواحی گاؤں "اشتبرق" میں ٹھہر گئیں۔

بعد ازاں ترکی کا ایک اور فوجی قافلہ حلب اور دمشق کے درمیان راستے پر واقع شہر "خان شيخون" پہنچ گیا۔ اس قافلے نے ہیر کو صبح صادق تک شہر میں گشت کیا۔

ترکی کا ایک اور فوجی قافلہ "كفر لوسين" کی غیر قانونی گزر گاہ کے راستے ادلب کے شمالی دیہی علاقے میں داخل ہوا۔

یہ پہلا موقع ہے جب انقرہ کے عسکری گشتی دستے سرکاری طور پر اپنے فوجیوں اور تمام ساز و سامان کے ساتھ ادلب صوبے کے اندر تک گھوم رہے ہیں۔ اس سے قبل یہ دستے ترکی اور شام کی سرحد پر محدود رہتے تھے۔

انقرہ کے حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کے گروپ اس معاملے کو "ایک عام اقدام کے طور پر" پیش کرنے اور اسے ادلب کے دیہی علاقوں میں ترکی کی نگراں چوکیوں اور اس کے مشن کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


شام میں نیشنل لبریشن فرنٹ کے سرکاری ترجمان کرنل ناجی مصطفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ ترکی کے فوجی گشتی دستوں کا ادلب کے اندر تک داخل ہو جانا دراصل سوچی معاہدے کی ایک پرانی شق کا اطلاق ہے جس پر اب تک عمل درامد نہیں ہوا تھا اور اب ترکی کی جانب سے اس کا اطلاق عمل میں آ رہا ہے۔

ادھر باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انقرہ ان گشتی دستوں کے ذریعے روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تا کہ مزید رعائتیں حاصل کر سکے۔ اس سے قبل ماسکو نے حلب اور دمشق کے درمیان بین الاقوامی روٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اصرار کیا تھا۔

ادلب سے تعلق رکھنے والے شامی صحافی حازم داکل اس تمام صورت حال کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "ترکی کی بکتر بند گاڑیوں کا اس طرح اعلانیہ طور پر ادلب کے کافی اندر تک داخل ہونے کا مقصد اس خیر مقدم کی تصویر کو پیش کرنا ہے جو اس علاقے کے بعض مقامی لوگوں کی جانب سے سامنے آ رہا ہے تا کہ بعد ازاں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے رابطے میں داکل نے بتایا کہ "اس خیر مقدم نے ہمیں کریمیا میں روس کی کارروائی کی یاد دلا دی ہے جب اس نے کریمیا کو روس سے علاحدہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہاں بھی لوگوں نے روسی فوجیوں کا اسی طرح استقبال کیا تھا جیسا کہ آج بعض شامی شہری ترک فوجیوں کا استقبال ادلب کے فاتح کے طور پر کر رہے ہیں"۔

داکل کے مطابق "ادلب کے دیہی علاقے میں ترکی کی چوکیوں کا مقصد بم باری روکنا یا سوچی معاہدے کی کامیابی کو یقینی بنانا نہیں بلکہ اپوزیشن گروپوں کی فورسز کو بشار حکومت اور اس کے حلیف روس کے خلاف حملوں سے روکنا ہے ،،، اور ترکی اس معاملے میں 100% کامیاب رہا ہے"۔

ترکی کے فوجی دستے بشار حکومت کو حماہ کے دیہات اور قصبوں پر بھاری گولہ باری سے نہیں روک رہے۔ اس گولہ باری کی لپیٹ میں مورک قصبہ بھی آیا جہاں درجنوں ترک فوجی تعینات ہیں۔

انقرہ اور ماسکو کے درمیان 17 ستمبر کو طے پانے والے سوچی معاہدے کے بعد سے ترکی فوجی ادلب کے دیہی علاقوں میں 12 چوکیوں میں تقسیم ہیں جب کہ اس کے مقابل روسی فوج کی صرف 10 چوکیاں ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں النصرہ فرنٹ کے ساتھ کئی روز تک جاری رہنے والی خونی لڑائی کے بعد نیشنل لبریشن فرنٹ 70 ہزار سے زیادہ جنگجو ہونے کے باوجود ادلب اور اس کے دیہی علاقوں میں اکثر علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ النصرہ فرنٹ نے سوچی معاہدے کی ابتدا سے ہی اس کو مسترد کر دیا تھا۔ انقرہ کی جانب سے معاہدے قبول کرنے پر زور دینے کی بھرپور کوشش کے باوجود فرنٹ نے باور کرایا تھا کہ بشار کی فوج کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں