.

داعش تنظیم کا ایس ڈی ایف سے انتقام لینے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم نے شام کے شمالی اور مشرقی حصوں میں اپنے جنگجوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ کردوں کے خلاف "انتقامی" کارروائی کریں۔ واضح رہے کہ کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے داعش کے ارکان کو الباغوز قصبے کے ایک محدود حصے میں محصور کیا ہوا ہے اور جلد ہی "خلافت" کے خاتمے کا اعلان کرنے والی ہے۔

داعش تنظیم کے ترجمان ابو الحسن المہاجر نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک آڈیو ٹیپ میں شام کے صوبوں دیر الزور، الرقہ اور الحسکہ میں تنظیم کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے خون کا انتقام لیں۔ ساتھ ہی زور دیا گیا ہے کہ دھماکا خیز آلات، نشانچیوں اور گولہ بارود سے بھری گاڑیوں کو کام میں لائیں اور ایس ڈی ایف پر حملہ کریں۔

داعش تنظیم کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے جنگجوؤں نے الباغوز قصبے کے ایک تنگ حصے میں داعش کے بچے کھچے عناصر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

العربیہ کے نمائندے نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ شام کے مشرقی قصبے الباغوز میں داعش اور کرد فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ نمائندے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بین الاقوامی اتحاد نے اپنے فضائی حملوں کو تیز کر دیا ہے۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بتایا ہے کہ فضائی بم باری کا سلسلہ پیر کے روز پھر سے شروع ہو گیا۔ یہ پیش رفت الباغوز کے کھیتوں میں داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی بھرمار کے نتیجے میں ایس ڈی ایف کے پیچھے ہٹنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

یاد رہے کہ ایس ڈی ایف نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران داعش تنظیم کے خلاف اپنے حملوں کا سلسلہ روک دیا تھا تا کہ ہتھیار ڈال دینے والے مسلح عناصر ، ان کے گھر والوں اور عام شہریوں کو الباغوز سے باہر آنے کا موقع مل سکے۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ رواں سال 9 جنوری کو الباغوز پر کنٹرول کے لیے حتمی حملہ شروع ہونے کے بعد سے 60 ہزار کے قریب افراد جن میں آدھی کے قریب تعداد داعش کے حامیوں کی تھی اور تنظیم کے پانچ ہزار ارکان الباغوز سے فرار ہوئے۔