شامی جمہوری فورسز کی الباغوز میں کارروائی،غیرملکیوں سمیت 157 جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) نے صوبہ دیر الزور میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے آخری ٹھکانے الباغوز سے فرار کی کوشش میں 157 جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں زیادہ تر غیرملکی ہیں۔

ایس ڈی ایف نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمارے یونٹوں نے دہشت گردوں کے ایک گروپ کی نگرانی کی، ان کا پیچھا کیا اور مکمل طور پر مسلح 157 جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے‘‘۔ایس ڈی ایف کے میڈیا دفتر کے سربراہ مصطفیٰ بالی نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ پکڑے گئے انتہا پسندوں میں زیادہ تر غیرملکی ہیں۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں کب گرفتار کیا گیا تھا۔ ایس ڈی ایف کے بیان میں بھی اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

ایس ڈی ایف نے صوبہ دیرالزور میں واقع داعش کے آخری ٹھکانے باغوز کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے ۔یہ قصبہ عراق کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہ ایک جانب دریائے فرات اور دوسری جانب پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔یہاں ہر طرف گاڑیاں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور رات کو ایس ڈی ایف توپ خانے سے گولہ باری کرتی ہے جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتے ہیں۔سوموار کی شب بھی انھوں نے شدید فضائی بمباری کی تھی۔

ایس ڈی ایف اور امریکی اتحاد دونوں کا کہنا ہے کہ باغوز میں باقی رہ جانے والے داعش کے جنگجوؤں میں زیادہ تر غیرملکی سخت گیر ہیں۔گذشتہ دو ماہ کے دوران میں داعش کے اس قلعہ نما مرکز سے قریباً 60 ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑ کر دوسرے مقامات کی جانب چلے گئے ہیں ۔ان میں قریباً نصف داعش کے حامی یا ان کے خاندانوں کے افراد تھے اور ان میں بھی قریباً پانچ ہزار داعش جنگجو تھے۔انھوں نے خود کو ایس ڈی ایف کے حوالے کردیا تھا۔

ایس ڈی ایف کا باغوز پر قبضہ داعش کے خلاف شام میں جنگ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ۔ تاہم علاقائی اور مغربی حکام کا کہنا ہے کہ داعش یہاں شکست سے دوچار ہوجانے کے باوجود ایک خطرہ رہیں گے۔اس گروپ کے بعض جنگجوؤں نے شام کے وسط میں واقع صحرا میں خفیہ کمین گاہیں بنا رکھی ہیں جبکہ عراق میں بہت سے جنگجو زیر زمین چلے گئے ہیں اور وہ گاہے گاہے حملے یا اغوا کی وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔

داعش نے سوموار کی شب اپنے ترجمان ابی الحسن المہاجر کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ گروپ بدستور مضبوط رہے گا۔انھوں نے یہ سوال کیا تھا :’’ کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ باغوز سے غریب اور لاچارو ں کو بے گھر کر کے اسلامی ریاست کو کمزور کردیں گے؟ نہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں