.

اسرائیل گولان پر قابض ہے: برطانیہ کا ٹرمپ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے باور کرایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گولان کے پہاڑی علاقے پر اسرائیل کی حاکمیت تسلیم کرنے کے باوجود لندن اپنے موقف میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں شام سے یہ علاقہ چھین لیا تھا۔

جمعے کے روز جاری بیان میں برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "مملکت متحدہ گولان کے پہاڑی علاقے کو اسرائیل کے زیر قبضہ اراضی شمار کرتی ہے۔ اس اراضی کو ایسی طاقت کے بل بوتے پر ضم کیا گیا جو اقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق ممنوع ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "ہم نے 1981 میں اسرائیل کی جانب سے (گولان کو) ضم کیے جانے کے عمل کو تسلیم نہیں کیا اور ہمارا اس موقف میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں"۔

برطانیہ کا یہ موقف جمعے کے روز متعدد ممالک اور تنظیموں کی جانب سے سامنے آنے والے اُن مواقف سے مطابقت رکھتا ہے جن میں پوری شدت سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کی گئی۔ جرمنی، فرانس، یورپی یونین، خلیج تعاون کونسل، مصر اور اردن نے اپنے بیانات میں ان بین الاقوامی قرار دادوں کی یا دہانی کرائی ہے جو گولان کے قبضے کو ناجائز قرار دیتی ہیں۔