.

برطانیہ: نشے میں دھت گرفتار خاتون نے ملامت کا ملبہ سعودی عرب پر ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں سڑک پر تیز رفتاری کے سبب حراست میں لی جانے والی مقامی خاتون نے عدالت سے استدعا کی کہ اسے جیل نہ بھیجا جائے کیوں کہ وہ سعودی عرب میں قیام کے دوران مسائل سے دوچار رہی۔

برطانوی اخبار "مانچسٹر ایوننگ" کے مطابق 50 سالہ خاتون کیتھی بیکوس کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں گزارے گئے 12 ماہ کا تلخ تجربہ بھلانے کے لیے راہ فرار کے طور پر شراب پینے کا سہارا لیا۔ کیتھی نے مملکت کے شہر جدہ میں کوکنگ ٹیچر کے طور پر کام کیا۔

کیتھی نے اپنے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو وہ نشے میں دھت ہونے کے سبب بڑی مشکل سے گھر تک جا پا رہی تھی۔ ایک عینی شاہد نے یہ منظر دیکھ کر فوری طور پر پولیس کو مطلع کر دیا۔ پولیس کے پہنچنے تک کیتھی کی حالت غیر ہو چکی تھی اور وہ سیدھی کھڑی رہ کر بات کرنے کے بھی قبل نہیں تھی۔

بعد ازاں کیتھی کے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ اس نے مقررہ مقدار سے کہیں زیادہ شراب پی لی تھی۔

عدالت نے کیتھی کے خلاف جیل اور تین سال تک ڈرائیونگ پر پابندی کی سزا سنائی۔ تاہم جیل کی سزا پر عمل کو موقوف کر دیا۔

جج کے مطابق سزا میں تخفیف اس لیے کی گئی کیوں کہ وہ دو بچوں کی سرپرست ہے اور اس نے شراب کا سہارا اس لیے لیا کیوں کہ جدہ میں رہتے ہوئے "بطور خاتون مشکلات کا سامنا کرتی رہی" ... جہاں شراب پینے اور خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں تھی۔

واضح رہے کہ کیتھی کا جدہ میں قیام 2017 تک رہا جب کہ مملکت میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت 2018 میں دی گئی۔

کیتھی کو گزشتہ ماہ 10 فروری کو حراست میں لیا گیا تھا۔