.

مسلمانوں سے یک جہتی کے اظہار پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو دھمکیوں کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشت گرد حملوں کے بعد ملک میں مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنے والی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن بھی دھمکیوں کی لپیٹ میں آ گئی ہیں۔

آرڈرن نے گزشتہ ہفتے نماز جمعہ کے دوران شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ سے بھرپور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ مسلمانوں کی سکیورٹی محفوظ ہے اور انہیں اپنے عقائد کے اظہار کی پوری آزادی ہے۔

گزشتہ روز کیوی وزیراعظم کے نام کی گئی ایک ٹویٹ میں ایک ہتھیار کی تصویر دکھائی گئی ہے جس پر تحریر ہے "اگلا نشانہ آپ ہیں"۔

ایک اور ٹویٹ میں بھی نفرت اور تعصب کا اظہار کرتے ہوئے جاسنڈا آرڈرن کو برے انجام کی دھمکی دی گئی ہے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کے حکام نے باور کرایا ہے کہ وہ اس اکاؤنٹ کے مالک کی شناخت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جس سے یہ ٹویٹس کی گئیں جب کہ اکاؤنٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پورے نیوزی لینڈ میں جمعے کی اذان براہ راست نشر کی گئی۔ بعد ازاں کرائسٹ چرچ مساجد کے 50 شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

شہداء کی نماز جنازہ کے موقع پر ہزاروں افراد کے درمیان وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن بھی سر پر حجاب کے ساتھ موجود تھیں۔

اس دانستہ وحشیانہ قتل و غارت کا الزام 28 سالہ آسٹریلوی شدت پسند برینٹن ٹیرینٹ پر عائد کیا گیا ہے جو سفید فام نسل پرستی پر یقین رکھتا ہے۔ غالبا دونوں مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کرنے والے ٹیرینٹ کو مزید الزامات کا بھی سامنا ہو گا۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ برینٹن کو انفرادی جیل میں عمر قید گزارنا ہو گی۔