کشتی حادثے پرنینویٰ کے گورنر کی برطرفی پر عراقی پارلیمنٹ میں بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں گذشتہ ہفتے موصل کے قریب سمندر میں کشتی ڈوبنے اور ایک سو کے قریب اموات کے بعد اس حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے پارلیمنٹ میں بھی بحث جاری ہے۔

العربیہ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ میں نینویٰ صوبے کے گورنر نوفل العاکوب کو بھی کوتاہی برتنے کے الزام میں برطرف کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ عراق کے سیاسی حلقوں کی جانب سے موصل میں کشتی حادثے کے ذمہ داروں جن میں الحشد ملیشیا اور بعض حکومتی شخصیات بھی شامل ہیں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

موصل کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ام الربعیین جزیرےمیں سرمایہ کاری کرنے والےاس حادثے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ ان میں نینویٰ کا گورنر اور الحشد ملیشیا کے اہم عہدیدار بھی شامل ہیں۔

عوامی حلقوں کی طرف سے وزیراعظم سے نینویٰ کے گورنر کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور انہیں اس حادثے میں قصور قرار دیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہناہے کہ کشتی حادثے میں کسی غیرمتعلقہ شخص کو قربانی کا بکرا بنائے جانے کے بجائے اس کے اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ام الربیعین جزیرہ جہاں یہ حادثہ پیش آیا گذشتہ برس سے الحشد ملیشیا کے تسلط میں ہے۔ گذشتہ برس نومبر میں العربیہ نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ الحشد نے طاقت کے ذریعے جزیرہ ام الربیعین پرقبضہ کررکھا ہے۔

نینویٰ سے منتخب عراقی رکن پارلیمنٹ اخلاص الدلیمی نے بھی ایک بیان میں عصائب اھل الحق ملیشیای کو کشتی حادثے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں