.

الباغوز میں سرنگوں سے نکل کر داعشی جنگجوئوں نے ہتھیار ڈال دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز 'سیرین ڈیموکریٹک فورس' کی طرف ملک میں 'داعش' کی خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے روز داعش کے درجنوں جنگجو الباغوز میں زمین دوز بنکروں، غاروں سرنگوں سے نکل آئے اور انہوں نے ہتھیار پھینکتے ہوئے خود کو 'ڈیموکریٹک فورس' کے حوالے کردیا۔

خبر رساں ادارے'اے ایف پی' کے مطابق کرد ملیشیا کے ترجمان جیاکر امد نے بتایا کہ گذشتہ روز الباغوز میں داعش کے جنگجوئوں نے ہتھیار ڈال دیے تاہم ان کی تعداد بیان نہیں کی گئی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ الباغوز میں سرچ آپریشن جاری ہے اور سرنگوں میں مزید داعشی جنگجو بھی ہوسکتے ہیں۔
'اے ایف پی' کے نامہ نگار نے الباغوز میں ہتھیارڈالنے کے بعد زمین پر قطار میں بیٹھے داعشی جنگجوئوں کی تصاویر لیں۔ انہیں کچھ دیر تک ایسے ہی بٹھایا گیا جس کے بعد انہیں گاڑیوں میں ڈال کر وہاں سے محفوظ مقامات پر لے جایا گیا ہے۔

ان میں سے بعض نے اپنے چہرے اور سر ڈھانپ رکھے ہیں۔ بعض نے روایتی چغے پہن رکھے ہیں۔ وہاں پر آنے والے صحافیوں کو ان کے قریب جانے یا بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ہفتے کے روز سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے سنہ 2014ء کو شام اور عراق میں اپنی خلافت قائم کرنے والی 'داعش' کی حکومت کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا۔ الباغوز شام میں'داعش' کے زیرتسلط آخری شہر تھا جس میں حال ہی میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

اتوار کے روز الباغوز کے پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے ایک کیمپ کے اندر سے سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ کرد ملیشیا کے ترجمان کے مطابق یہ دھواں داعش کی طرف سے اسلحہ کے ذخائر کو آگ لگائے جانے کا نتیجہ ہے۔

اس کیمپ میں داعشی جنگجوئوں‌ نے بڑی تعداد میں سرنگیں بنا کرانہیں جنگ کے لیے استعمال کیا۔ کیمپ میں جلی ہوئی گاڑیوں کے ڈھانچے، گھریلو استعمال کے برتن، پانی کے گیلن اور گیس کے سیلنڈر ہرطرف پھیلےہوئے ہیں۔

مشرقی دیر الزور میں داعش کے خلاف آپریشن کے بعد کرد فورسز نے الباغوز میں 'داعش' کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ فروری 2019ء کو داعش اور کرد فورسز کے درمیان ایک دوسرے پر بھارتی توپ خانے سے حملوں کا آغاز ہوا۔اس دوران 60 ہزار شہریوں نے نقل مکانی کی جب کہ 5 ہزار داعشی جنگجوئوں‌نے گرفتاری کی اور بڑی تعداد میں‌ جنگجو فرار ہوگئے۔