.

رومانیہ اورہونڈراس کا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومانیہ اور ہونڈراس نے بھی امریکا کی تقلید کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

رومانی وزیراعظم وائیریکا ڈانسیلا اور ہونڈراس کے صدر جوآں اولینڈو ہرننڈیز نے واشنگٹن میں امریکا،اسرائیل تعلقات عامہ کمیٹی کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر یروشلیم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیلی سیاست دانوں نے ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

تاہم رومانیہ کے صدر کلاز آئیو ہانیس نے خاتون وزیراعظم کے اچانک اعلان کی مخالفت کردی ہے۔وہ ان کی حکومت کے حریف ہیں اور وہی دراصل مشرقی یورپ کے اس ملک کی خارجہ پالیسی کے نگران ہیں۔ رومانی صدر نے اپنی وزیراعظم پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے اس فیصلے سے قبل سے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔انھوں نے یہ الزام بھی عاید کیا ہے کہ وائیریکا ڈانسیلا خارجہ پالیسی کے بارے میں ’’مکمل طور پر لاعلم ‘‘ہیں ۔

رومانی وزیراعظم کا یہ فیصلہ یورپی یونین کے باقی رکن ممالک کے موقف کے بھی منافی ہے کیونکہ انھوں نے مقبوضہ بیت المقدس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدا میں اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ اس کو ایک متنازعہ علاقہ تصور کرتے ہیں۔ رومانیہ اس وقت یورپی یونین کا باری کا صدر ملک ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں سب سے پہلے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے اس متنازع شہر میں منتقل کردیا تھا۔اس کے بعد گوئٹے مالا نے بھی یروشلیم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا تھا اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

اسرائیلی حکومت نے امریکی اقدام کا خیرمقدم کیا تھا جبکہ فلسطینیوں نے اس پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا ۔ وہ مشرقی القدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے خواہاں ہیں۔ فلسطینیوں اور بین الاقوامی برادری کا کہنا ہے کہ اس شہر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے ۔واضح رہے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے بیشتر ممالک نے اپنے سفارت خانے تل ابیب میں قائم کررکھے ہیں اور وہ اس تنازع میں پڑنے سے گریزاں ہیں ۔